
بھوپال میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے نوجوان اراکین اسمبلی کی کانفرنس منعقد
بھوپال، 31 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہریونش سنگھ نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کی سب سے تیز رفتاری سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ ہندوستان چیلنجوں سے نمٹ کر نئی تاریخ رقم کر رہا ہے اور آنے والی صدی ہندوستان کی ہوگی۔ اس کے لیے مثبت اور دور اندیش سوچ کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
ڈپٹی چیئرمین ہریونش سنگھ منگل کو بھوپال میں واقع مدھیہ پردیش اسمبلی میں منعقدہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی دو روزہ نوجوان اراکین اسمبلی کی کانفرنس (کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن انڈیا ریجن زون-6) کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں جمہوریت میں شہریوں کی شرکت اور ’وکست بھارت2047‘ میں اراکین اسمبلی کے کردار پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔
ڈپٹی چیئرمین سنگھ نے کہا کہ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ نوجوان ملک کی تاریخ، سمت اور مستقبل بدل سکتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب نوجوانوں کی سرگرمی سے ہی پورا ہوگا۔ ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر مختلف شعبوں میں ترقی کی یہی رفتار جاری رہی تو سال 47-2046 سے پہلے بھی ہندوستان ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سنگھ نے کہا کہ جب وہ رکن پارلیمنٹ بن کر آئے تھے، تب کاغذات کے پلندے آتے تھے اور انہیں گھر میں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی تھی۔ پڑھنے کا بھی پورا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ آج وہی پارلیمنٹ مکمل طور پر پیپر لیس ہو چکی ہے اور اب آگے اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے استعمال پر بھی کام چل رہا ہے۔ اسمبلیاں بھی تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہیں، جس سے عوامی نمائندوں کے لیے کئی نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی مواقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر اے آئی۔ اسے لے کر دو طرح کے نظریات ہیں - ایک طرف اسے چیلنج مانا جاتا ہے، تو دوسری طرف یہ بڑے مواقع بھی دیتی ہے۔ جن ریاستوں یا ممالک میں ترقی کی رفتار سست رہی ہے، ان کے لیے ٹیکنالوجی آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تیزی سے ترقی ممکن ہے، بشرطیکہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔
انہوں نے مشہور ماہرِ معاشیات رگھورام جی راجن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کیوں کچھ ریاستیں تیزی سے ترقی کرتی ہیں، جبکہ کچھ پیچھے چھوٹ جاتی ہیں۔ ایسی کتابوں سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہماری جی ڈی پی کیسے بڑھ سکتی ہے اور معاشی ترقی کے لیے کن پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب دنیا کے ماہرینِ معاشیات - جنہیں ہم بہت مانتے تھے - یہ کہتے تھے کہ ہندوستان 2 سے 3 فیصد سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اسے ’ہندو گروتھ ریٹ‘ کہا جاتا تھا۔ اس وقت یہ بھی مانا جاتا تھا کہ صرف الگ طرح کے سیاسی نظام والے ممالک ہی تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن آج ہندوستان نے جمہوری نظام میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت میں بھی تیز تر ترقی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ صحیح پالیسیوں اور عزم کے ساتھ ملک تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا ہے، جہاں بڑے بڑے منصوبوں کی مانیٹرنگ ہوتی ہے اور انہیں تیز رفتاری سے پورا کیا جاتا ہے۔ ملک اب اسی طرح کی موثر گورننس کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا مرکز ریاستیں ہوتی ہیں، کیونکہ امن و امان، زراعت، صحت اور تعلیم جیسے موضوعات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس لیے ترقی کی بنیاد ریاستوں کے پاس ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کے کامراج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو میں انہوں نے ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی، جبکہ وہ رسمی طور پر زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ 1995 میں جب انہیں امریکہ جانے کا موقع ملا، تب ہندوستان کی پہچان ایک غریب ملک یا سپیروں کے ملک کے طور پر کی جاتی تھی۔ لیکن نارائن مورتی جیسے لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ ہندوستان صلاحیتوں کا ملک ہے اور اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں 2 لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں۔ چھوٹے دیہاتوں اور قصبوں سے نکل کر نوجوان اپنے اسٹارٹ اپس قائم کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں انہی اسٹارٹ اپس سے نئے نارائن مورتی نکلیں گے۔ آپ 10 سال بعد کی صورتحال کا تصور کیجیے - بڑھتے ہوئے مدھیہ پردیش کا تصور کیجیے - تب سمجھ میں آئے گا کہ یہ تبدیلی کتنی بڑی ہو سکتی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سنگھ نے کہا کہ آج کی معیشت کی ترقی کی بنیادی وجہ توانائی ہے اور اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ آپ یہ بھی تصور کیجیے کہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی (تقریباً 146 کروڑ) والا اور رقبے میں ساتواں بڑا ملک ہونے کے باوجود ہندوستان میں منرلز، پٹرولیم مصنوعات اور کئی قدرتی وسائل محدود مقدار میں ہیں، جنہیں ہمیں بڑے پیمانے پر درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود آج دنیا کے کئی حصوں - نارتھ امریکہ، یورپ، ویسٹ ایشیا اور ایشیا کے دیگر ممالک - میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ کہیں بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے، تو کہیں لاک ڈاؤن جیسی صورتحال بنی ہے۔ پوری دنیا ایک طرح کے توانائی کے بحران سے گزر رہی ہے۔ لیکن ان حالات کے درمیان بھی ہندوستان خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں وہ پونے سے لے کر جھارکھنڈ تک کئی شہروں میں گئے، جہاں معمول کے مطابق ٹریفک اور سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ ہندوستان کی صلاحیت اور بحران کے انتظام (کرائسس مینجمنٹ) کی مثال ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ توانائی آج کی عالمی معیشت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن