
ناگپور ممبئی ، 31 مارچ (ہ س) ناگپور ضلع کے راہول گاؤں میں واقع ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کمپنی میں یکم مارچ 2026 کو صبح تقریباً 5:30 بجے ہونے والے خوفناک دھماکے میں اب تک 26 مزدور ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 15 افراد موقع پر جبکہ 11 علاج کے دوران دم توڑ گئے، اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود کمپنی کے مالکان سنجے چودھری اور آلوک چودھری کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
یہ معاملہ کلمیشور پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جہاں پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے، تاہم اب تک مالکان کے خلاف ایف آئی آر کے علاوہ کوئی بڑی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔
ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ ایک ایسی کمپنی ہے جو کان کنی اور صنعتی استعمال کے لیے مختلف اقسام کے دھماکہ خیز مواد تیار کرتی ہے، جن میں سلری ایکسپلوسوز، ایمولشن ایکسپلوسوز، بلک دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹر، ڈیٹونیٹنگ فیوز اور کالم چارج جیسے مواد شامل ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق کمپنی مہاراشٹر میں رجسٹرڈ ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر ناگپور شہر میں واقع ہے، جبکہ اس کا رجسٹریشن نمبر U24292MH2002PLC134851 ہے۔ کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور مجاز افسر کے طور پر آلوک چودھری کا نام درج ہے۔ یہ کمپنی 2002 میں امین ایکسپلوسوز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے قائم ہوئی تھی، جسے 2016 میں چودھری خاندان نے حاصل کر کے اس کا نام تبدیل کیا تھا۔
بارود اور دھماکہ خیز مواد بنانے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنا، حفاظتی نگرانی کرنا اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن (پیزو) کی ذمہ داری ہے، جس کا ہیڈکوارٹر بھی ناگپور میں ہی واقع ہے۔ تاہم ضلع میں اس نوعیت کے کارخانوں میں بار بار دھماکوں اور جانی نقصان کے بڑھتے واقعات نے پیزو کی نگرانی اور ضابطوں کے نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی افراد کی جانب سے اس واقعے کی مکمل اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اب تک انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی کے بجائے صرف کاغذی کارروائیاں ہی کی گئی ہیں۔
اس حادثے کے بعد ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے اور اس معاملے میں 21 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے، جن میں سے 11 کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، تاہم کمپنی کے دونوں مالکان سنجے چودھری اور آلوک چودھری اب تک مفرور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حادثے کے دن دونوں مالکان چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور سے ناگپور کے لیے روانہ ہوئے تھے اور شام تک پہنچنے کی توقع تھی، لیکن مقدمہ درج ہونے کی اطلاع ملتے ہی دونوں رابطے سے باہر ہو گئے اور اب تک پولیس کی گرفت سے دور ہیں۔
اس المناک حادثے میں جان گنوانے والے 26 مزدوروں کے اہل خانہ اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انہیں انصاف کب اور کیسے ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے