تیر انداز کومالیکا باری کو کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز میں دمدار مظاہرہ کو لے کر پر یقین ، ایشین گیمز کے انتخاب پر نظریں
نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔ سال 2021 میں، جب کومالیکا باری نے اپنی ریاست کی ساتھی دیپیکا کمار کی برابری کرتے ہوئے عالمی کیڈٹ اور ورلڈ جونیئر دونوں ٹائٹل جیتنے والی بھارت کی دوسری خاتون ریکورو تیر انداز بننے کو فخر حاصل کیا ، تب جمشیدپور کی اس کھلاڑی
تیر انداز کومالیکا باری کو کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز میں دمدار مظاہرہ کو لے کر پر یقین ، ایشین گیمز کے انتخاب پر نظریں


نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔

سال 2021 میں، جب کومالیکا باری نے اپنی ریاست کی ساتھی دیپیکا کمار کی برابری کرتے ہوئے عالمی کیڈٹ اور ورلڈ جونیئر دونوں ٹائٹل جیتنے والی بھارت کی دوسری خاتون ریکورو تیر انداز بننے کو فخر حاصل کیا ، تب جمشیدپور کی اس کھلاڑی سے کافی ساری امیدیں جڑ گئی تھیں ۔ تاہم، جونیئر سطح پر شاندار مظاہرہ کے بعد سینئر سرکٹ میں ان کا سفر اتنا آسان نہیں رہا۔ کومالیکا ایشیائی کھیلوں اور 2028 اولمپک جیسے بڑے ٹورنامنٹ کے لئے بھارتیہ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ابھی تک وہ مکمل طور پر جگہ پکی نہیں کر پائی ہیں۔

اب 2026 کے ایشین گیمز کے لیے بھارتیہ ٹیم میں انتخاب کی دوڑ آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں،ایسے میں کومالیکا نے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ پونے میں جاری تربیتی کیمپ میں، وہ اپنی تکنیک کو بہتر بنانے، ذہنی طاقت بڑھانے اور دباو¿ میں اچھی کارکردگی دکھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

کومالیکا نے سائی میڈیا کو بتایا، میں اس وقت ٹاپ 16 میں ہوں اور قومی تربیتی کیمپ کا حصہ ہوں۔ میں ایشین گیمز کے انتخاب کے لیے سنجیدگی سے تیاری کر رہی ہوں۔ میں اپنے تربیتی شیڈول کو برقرار رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مقابلوں میں حصہ لے کر تجربہ حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

جھارکھنڈ کی یہ باصلاحیت تیر انداز یہاں جاری افتتاحی کھیلو انڈیا قبائلی کھیلوں میں تیر اندازی کے مقابلے میں ایک اہم توجہ کا مرکز ہے۔

کومالیکا نے مزید کہا، میرا حتمی مقصد 2028 کے اولمپکس ہے۔ فی الحال، میری تربیت بہت اچھی چل رہی ہے، اور میں سخت محنت کر رہی ہوں۔ میری بنیادی توجہ ذہنی طور پر مضبوط رہنے پر ہے، کیونکہ یہ کارکردگی میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ”میرے سفر نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ اتار چڑھاو¿ تو آئیں گے لیکن محنت اور عزم کے ساتھ ہم ان پر قابو پا کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔“ وہ بتاتی ہیں کہ میچ کا تجربہ حاصل کرنے کے علاوہ، وہ مزید قبائلی بچوں کو اس کھیل کو کیریئر کے طور پر آگے بڑھانے کی ترغیب دینا چاہتی ہے۔ کومالیکا نے سب سے پہلے 12 سال کی عمر میں کمان اور تیر اٹھایا۔ انہیں اپنی ماں، ایک آنگن واڑی ورکر کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ ان کی ماں انہیں برسانگر میں ایک مقامی تیر اندازی کوچ کے پاس لے گئی، جہاں سے اس کا کیریئر شروع ہوا۔ کومالیکا نے 2012 میں اپنی ابتدائی جدوجہد کا سامنا کرنا شروع کیا۔ ابتدائی دنوں میں، ان کے خاندان کے مالی حالات اتنے مضبوط نہیں تھے کہ وہ مشق کے لیے کمان خرید سکیں، اس لیے انہوں نے تربیت کے دوران بانس سے بنے ایک عارضی کمان کا سہارا لیا۔

اپنی تربیت شروع کرنے کے چار سال بعد، کومالیکا نے جمشید پور میں ٹاٹا تیر اندازی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور کوچ دھرمیندر تیواری اور پورنیما مہتو کی رہنمائی میں مشق کرنا شروع کی۔ تاہم، اس باوقار اکیڈمی تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں تھا، کیونکہ اسے برسانگر میں اپنے گھر سے روزانہ 18 کلومیٹر سائیکل چلانا پڑتا تھا۔

وہ کہتی ہیں، جب میں نے تیر اندازی شروع کی تو میرے پاس بہت سے سینئر کھلاڑی تھے جنہیں میں رول ماڈل سمجھتی تھی۔ ہمیں عموماً انہیں مقابلوں کے دوران ہی دیکھنے کا موقع ملتا تھا، اور اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملا۔

24 سالہ کومالیکا رائے پور میں جاری مقابلے میں انفرادی، ٹیم اور مکسڈ ٹیم ایونٹس میں حصہ لیں گی۔ کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز 2020 میں انفرادی طور پر چاندی کا تمغہ جیتنے والی کومالیکا اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو سمجھتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ قبائلی کھیل قبائلی پس منظر سے آنے والے کھلاڑیوں کی ترقی کو ایک نئی تحریک دے سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande