
نئی دہلی، 29 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کے درمیان مرکزی حکومت نے کہا کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی مناسب دستیابی ہے اور سپلائی مکمل طور پر معمول پر ہے۔ حکومت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ افواہوں کو نظر انداز کریں اور گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی مرکزی وزارت کے مطابق ملک بھر میں تمام پٹرول پمپ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ خام تیل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، اور تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ بھی دستیاب ہے۔ گھریلو طلب کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریوں سے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔وزارت نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی ہے، اور گھریلو دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزل پر 21.5 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف پر 29.5 روپے فی لیٹر ایکسپورٹ ڈیوٹی بھی عائد کی ہے۔
گھریلو پائپ سے گیس اور سی این جی ٹرانسپورٹ کی سپلائی 100% پر جاری ہے۔ صنعتی اور تجارتی صارفین اپنی گیس کی اوسط کھپت کا تقریباً 80% حاصل کر رہے ہیں، جب کہ کھاد کے پلانٹس اپنی سپلائی کا 70% سے 75% حاصل کر رہے ہیں۔ سپلائی برقرار رکھنے کے لیے اضافی ایل این جی اور آر ایل این جی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ مارچ میں 2.9 لاکھ سے زیادہ نئے پی این جی کنکشن فراہم کیے گئے۔ایل پی جی کی سپلائی بھی معمول پر ہے۔ ایک دن میں 55 لاکھ گھریلو سلنڈر تقسیم کیے گئے ہیں اور کسی ڈیلر نے گیس کی کمی کی اطلاع نہیں دی ہے۔ آن لائن بکنگ 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیلیوری تصدیقی کوڈ پر مبنی تقسیم 53 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد ہوگئی ہے۔ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی کو بتدریج پچھلے درجے کے تقریباً 70 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ 14 مارچ سے اب تک 39,368 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی فراہم کی جا چکی ہے جبکہ ایک دن میں تقریباً 64,000 چھوٹے سلنڈر فروخت کیے گئے۔حکومت نے ریاستوں کو اضافی 48,000 کلو لیٹر مٹی کا تیل مختص کیا ہے اور ایل پی جی پر دباو¿ کم کرنے کے لیے اضافی کوئلے کی سپلائی کو یقینی بنایا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے، ملک بھر میں تقریباً 2,900 چھاپے مارے گئے، تقریباً 1,000 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اب تک 1200 سے زیادہ پٹرول پمپس اور گیس ایجنسیوں کا معائنہ کیا ہے اور 480 نوٹس جاری کیے ہیں۔
بحری نقل و حمل میں، 18 ہندوستانی پرچم والے جہاز، جن میں 485 ملاح شامل ہیں، مغربی خلیج فارس کے علاقے میں ہیں۔ تقریباً 94,000 میٹرک ٹن گیس لے جانے والے دو ایل پی جی جہاز بھارت کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، ایک 31 مارچ کو ممبئی پہنچے گا اور دوسرا 1 اپریل کو نیو منگلورو میں۔ ملک کی تمام بندرگاہوں پر آپریشن معمول کے مطابق ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ خلیج اور مغربی ایشیا میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ سفارتخانے 24 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ہیلپ لائنز کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ 28 فروری سے تقریباً 524,000 ہندوستانی وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ مختلف ممالک سے ہندوستان کے لیے پروازیں جاری ہیں، اور مسافروں کو متبادل راستوں سے نکالا جا رہا ہے جہاں فضائی حدود بند ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan