
مدھیہ پردیش میں بجلی کی شرح میں اضافے پر سیاست تیز، جیتو پٹواری نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا
بھوپال، 27 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں بجلی کی شرحوں میں مجوزہ 4.80 فیصد اضافے کو لے کر سیاسی معرکہ آرائی تیز ہو گئی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو خط لکھ کر اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اسے عام صارفین کی جیب پر براہِ راست حملہ اور ’’سرکاری وصولی‘‘ کا ماڈل قرار دیا ہے۔
جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ یکم اپریل سے نافذ ہونے جا رہی بجلی کی شرحوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے، جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت یہ واضح کیوں نہیں کر رہی کہ اضافے کی مجبوری کیا ہے۔ پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ریاست میں بجلی کی شرحوں میں 22 سے 24 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کے صفر سے50 یونٹ سلیب میں شرح 3.65 روپے سے بڑھ کر 4.45 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے، جو 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، ہر ماہ فیول پرائس اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے نام پر 3 فیصد سے زیادہ اضافی بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سے انہوں نے سوال کیا کہ بجلی کمپنیوں کے نقصان کی جوابدہی طے کیوں نہیں ہوتی؟ ہر سال نقصان دکھا کر عوام سے وصولی کیوں کی جاتی ہے؟ کیا بدانتظامی اور بدعنوانی کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے؟ کیا غریب، کسان اور متوسط طبقہ صرف بل بھرنے کے لیے رہ گیا ہے؟
ریاستی حکومت کی جانب سے الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ پر 20 فیصد چھوٹ کے دعوے کو بھی پٹواری نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ابھی ای وی صارفین کی تعداد محدود ہے، ایسے میں اس کا فائدہ عام لوگوں کو نہیں مل رہا اور یہ صرف پالیسی سازی کا دکھاوا ہے۔
جیتو پٹواری نے مطالبہ کیا کہ 4.80 فیصد بجلی کی شرح میں اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ فیول پرائس اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج جیسے اضافی چارجز کا شفاف جائزہ لیا جائے۔ بجلی کمپنیوں کے نقصان کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
پٹواری نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی ہے، تو کانگریس سڑکوں سے لے کر اسمبلی تک اس مسئلے پر بڑے پیمانے پر احتجاج کرے گی۔
در اصل مدھیہ پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے مالی سال 27-2026 کے لیے بجلی کی شرحوں میں اوسطاً 4.80 فیصد اضافے کو منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں یکم اپریل سے نافذ ہوں گی، جس میں مختلف زمروں میں 30 سے 50 پیسے فی یونٹ تک اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم، 150 یونٹ تک کے استعمال پر سبسڈی جاری رکھنے اور کچھ زمروں (جیسے کم آمدنی والے طبقے اور میٹرو ریل) کو راحت دینے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اس کے باوجود، عام گھریلو صارفین، کسانوں، چھوٹے تاجروں اور صنعتوں پر اس کا اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن