
از: ڈاکٹر سیّد سلیمان اختر، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خالہ، نئی دہلی
سیمی کنڈکٹرس روز مرّہ کے استعمال کی ٹیکنالوجی، جیسے موبائل فون اور گھریلو مشینوں کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں مگر ان کی تیاری ایک پیچیدہ عالمی نظام پر منحصر ہے۔ مواد، ڈیزائن، پیداوار اور مختلف اجزاء کو جوڑنے کا کام مختلف ملکوں میں ہوتا ہے جس سے یہ نظام نہایت مربوط ہوجاتا ہے۔
دہائیوں تک اس نظام کو مؤثریت کے اصول پر قائم رکھا گیا۔ کمپنیوں نے تیز اور سستی چپس تیار کرنے کے لیے پیداوار کو مختلف مہارت رکھنے والے عالمی مراکز میں تقسیم کیا۔ مگر حالیہ بحرانوں، جیسے وبا کے دوران قلت اور بڑھتی ہوئی عالمی سیاسی کشیدگی، نے اس ماڈل کے خطرات واضح کر دیے ہیں، جہاں مقامی مسائل کی توسیع عالمی صنعتوں تک ہوسکتی ہے۔
پیکس سیلیکا، امریکہ کی قیادت میں شراکت دار ممالک کی ایک کاوش ہے جو ان چیلنجوں کا حل ایک زیادہ مستحکم ٹیکنالوجی اور معاشی نظام بنا کر تلاش کرتی ہے۔ یہ صرف سیمی کنڈکٹرس پر مرکوز نہیں ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی معیشت کو تقویت دینے والے رسد فراہمی کے پورے نظام کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرتی ہے۔
تکش شِلا انسٹی ٹیوٹ میں ہائی ٹیک جیو پالیٹکس پروگرام کے چیئر اورر امریکی محکمہ خارجہ کے کواڈ پروگرام کے فیض یافتہ پر نئے کوٹاستھانے کہتے ہیں ”پیکس سیلیکا صرف کمپیوٹر چپس تک محدود نہیں بلکہ مصنوعی ذہا نت کے موجودہ دَور کے لیے ایک ٹیکنالوجی اتحاد ہے۔“
یہ پہل ” منرلس سے ماڈلس “ تک رسد فراہمی کے نظام پر محیط ہے جس میں کلیدی معدنیات، پیداوار ، اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت والے نظام شامل ہیں۔ اور یہ اس ادراک پر مبنی ہے کہ کوئی بھی ملک اس میدان میں مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہوسکتا ہے۔
کارکردگی سے بھروسے مند تعاون تک کا سفر
کوٹاستھانے بتاتے ہیں ” اصولی طور پر پیکس سیلیکا کا مقصد مصنوعی ذہانت کے دور کے پورے ٹیکنالوجی سلسلے میں ’ ایک قابل اعتماد زون‘ قائم کرنا ہے۔ اس زون میں شامل ممالک معدنیات، توانائی کے تعاون، پیداوار، چپ ڈیزائن، فکری املاک، اے آئی ماڈلس، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ڈیٹا کے آزادانہ بہاؤ کی اجازت دیں گے۔تمام اراکین مجموعی طور پر اس کے اتنے حصے کے حقدار ہوتے ہیں کہ کوئی بیرونی فریق کسی ایک حصے پر نہ کوئی جبر کرسکتا ہے اور نہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔“
یہ تنوع اس طرح کام کرتا ہے کہ ہر سطح پر صلاحیت مختلف اتحادی ممالک میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ اگر کسی معدنی وسائل میں رکاوٹ درپیش ہو تو دوسرے شراکت دار اس کا متبادل فراہم کرسکتے ہیں۔ اور اگر کسی پیداواری مرکز میں کوئی مسئلہ ہو تو باقی مراکز اس کا کچھ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔
کوٹاستھانے بتاتے ہیں ” پرانے ماڈل میں سب سے سستی چپ جیتتی تھی، لیکن پیکس سیلیکا کے فریم ورک میں وہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوتی ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے ۔اعتماد اس لحاظ سے کہ خام معدنیات سے لے کر نصب شدہ اے آئی سسٹم تک ہر مرحلہ ہم آہنگ ممالک سے ہوکر گزرتا ہے۔“
پیکس سیلیکا ایک بنیادی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ کوٹاستھانے وضاحت کرتے ہیں ” یہ صرف کارکردگی کا کھیل نہیں ہے؛ بلکہ یہ سلامتی اور خوشحالی کا کھیل ہے۔ خیال یہ ہے کہ کچھ معاشی کارکردگی کی قربانی دے کر مزاحمت پیدا کی جائے، کسی ایک مآخذ پر انحصار کم کیا جائے، اور اے آئی معیشت کے بنیادی ڈھانچے پر قابل اعتماد شراکت دار قابو رکھیں۔“
اعتماد یافتہ شراکتیں، مکمل ٹیکنالوجی سلسلہ
اتحادی ممالک کے درمیان مربوط تعاون کو اہمیت دیتے ہوئے، پیکس سیلیکا شراکت داروں کو اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ پوری ٹیکنالوجی زنجیر کو نقل کرنے کے بجائے اس کے تکمیلی حصوں میں مہارت حاصل کریں۔ کوٹاستھانے بتاتے ہیں ” مقصد یہ نہیں کہ ہر ملک پوری زنجیر خود بنائے بلکہ یہ ہے کہ قابلِ اعتماد شراکت دار مختلف حصوں میں مہارت رکھیں اور رسد فراہمی نظام کے تمام مراحل میں مجموعی صلاحیت موجود ہو۔ “
مختلف جغرافیائی علاقوں میں وسائل، صلاحیت اور پیداوار کو یکجا کر کے یہ پہل آپریشنل تسلسل کو مضبوط بناتی ہے اور شریک ممالک کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
ہندوستان کا کلیدی کردار
ہندوستان نے فروری 2026 میں پیکس سیلیکا میں شمولیت اختیار کی جس سے ’ٹرسٹ‘ پہل کے تحت امریکہ ۔ ہند تعاون کے مشترکہ وڑن کو آگے بڑھایا گیا۔ اسی تقریب میں دونوں ملکوں نے اختراع کو فروغ دینے والے ضابطہ جاتی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا۔
کوٹاستھانے کہتے ہیں ” امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات فطری طور پر موزوں ہیں کیوں کہ دونوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ امریکہ چِپ ڈیزائن ٹولس، الیکٹرک ڈیزائن آٹومیشن سافٹ ویئر، آلات اور جدیداے آئی ماڈلس میں آگے ہے، جب کہ ہندوستان بڑے پیمانے پر ڈیزائن ٹیلنٹ، انٹرپرائز اے آئی کی نفاذ کی صلاحیت اور ایک بہت بڑا بازار فراہم کرتا ہے۔“
چپ ڈیزائن کے حوالے سے کوٹاستھانے کہتے ہیں کہ ہندوستان کے پاس ایک اندازے کے مطابق 20 فی صد ڈیزائن انجنیئر موجود ہیں اور بڑی امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے ڈیزائن مراکز بھی ملک میں قائم ہیں جب کہ پیکس سیلیکا کے لیے چِپس بینگالورو، حیدر آباد اور نوئیڈا میں ڈئزائن کی جارہی ہیں۔
ڈیزائن سے آگے بڑھتے ہوئے، ہندوستان اے آئی عہد کے ٹیکنالوجی نظام کے دیگر اہم حصوں میں بھی کردار ادا کرتا ہے، جن میں سافٹ ویئر، انٹرپرائز اے آئی انضمام، اور توانائی و معدنی وسائل شامل ہیں، جو اسے ایک محفوظ اور مضبوط رسد فراہمی نظام کے قیام میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار بناتے ہیں۔
امریکہ کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں قیادت کو ہندوستان کی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے، پیکس سیلیکا یہ واضح کرتا ہے کہ قابلِ اعتماد شراکت داروں کے درمیان تعاون ہی عالمی ٹیکنالوجی نظام میں تسلسل، تنوع اور لچک کو یقینی بنانے کی کلید ہے۔
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد