
واشنگٹن، 22 مارچ (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری سے چھڑی جنگ کا کوئی انجام نظر نہیں آ رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلا تو ایران کے تمام ایٹمی بجلی گھر (پاور پلانٹ) مکمل طور پر تباہ کر دیے جائیں گے۔
سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کی رات اپنے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’اگر ایران اس وقت سے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر کسی پس و پیش کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولتا تو ریاستہائے متحدہ امریکہ اس کے مختلف ایٹمی بجلی گھروں پر حملہ کر کے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ اس کا آغاز ایران کے سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کیا جائے گا۔‘‘
ایران کا سب سے بڑا پاور پلانٹ ’بوشہر ایٹمی بجلی گھر‘ ہے۔ یہ جنوب مغربی ایران میں خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ ایران کا واحد تجارتی ایٹمی بجلی گھر ہے۔ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ سے دنیا بھر کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش سے گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی اس وقت آئی ہے جب جمعہ کو ٹریژری ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سمندر میں ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹا رہا ہے، تاکہ قیمتوں کو کم کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن