شبیر احمد انصاری کے انتقال سے او بی سی تحریک کو بڑا نقصان : مرزا عبد القیوم ندوی
شبیر احمد انصاری کے انتقال سے او بی سی تحریک کو بڑا نقصان : مرزا عبد القیوم ندویاورنگ آباد ، 22 مارچ (ہ س)۔ مسلم او بی سی تحریک کے سرکردہ رہنما اور آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے بانی و قومی صدر شبیر احمد انصاری کے انتقال پر ملک بھر میں
شبیر احمد انصاری کے انتقال سے او بی سی تحریک کو بڑا نقصان : مرزا عبد القیوم ندوی


شبیر احمد انصاری کے انتقال سے او بی سی تحریک کو بڑا نقصان : مرزا عبد القیوم ندویاورنگ آباد ، 22 مارچ (ہ س)۔ مسلم او بی سی تحریک کے سرکردہ رہنما اور آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے بانی و قومی صدر شبیر احمد انصاری کے انتقال پر ملک بھر میں بالخصوص پسماندہ مسلم طبقات اور سماجی کارکنوں کے درمیان گہرے غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ان کی وفات پر تنظیم کے قومی ترجمان مرزا عبد القیوم ندوی نے کہا کہ شبیر انصاری کا انتقال صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک پورے دور کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاری صاحب کا یقین تھا کہ حق کی جدوجہد صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری تک پہنچنی چاہیے، اور اسی اصول کے تحت انہوں نے محروم طبقات کو ایک نئی شناخت دی۔ اپنے تعزیتی بیان میں مرزا عبد القیوم ندوی شبیر انصاری نے اپنی جدوجہد کا آغاز 1970 اور 1980 کی دہائی میں کیا، جب مسلم قیادت چند مخصوص حلقوں تک محدود تھی۔ اس دور میں انہوں نے انصاری، منصوری، سلمانی، درزی اور قریشی جیسے ہنرمند طبقات کے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ انہیں مہاراشٹر میں مسلم او بی سی ریزرویشن تحریک کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس تحریک کو عوامی سطح پر مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں ریاست میں مسلم او بی سی طبقات کو ریزرویشن حاصل ہوا۔مرزا عبد القیوم ندوی کہا کہ شبیر احمد انصاری نے 1984 میں مہاراشٹر مسلم او بی سی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں وسعت دے کر آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن میں تبدیل کیا گیا۔ ان کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاج، ریلیاں اور تنظیمی سرگرمیاں انجام دی گئیں، جنہوں نے حکومتی پالیسیوں پر اثر ڈالا۔ شبیر انصاری نے دستور ہند کے تحفظ اور ذات پات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو بھی مسلسل اجاگر کیا۔ ان کی جدوجہد کا مقصد پسماندہ طبقات کو سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر مضبوط بنانا تھا، جس کے لیے وہ آخری وقت تک سرگرم رہے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد کو قلمبند کرتے ہوئے 2024 میں ان کی خود نوشت “مندل نامہ” شائع ہوئی، جو مسلم او بی سی تحریک کی ایک مستند دستاویز مانی جاتی ہے اور اس میں ان کے تجربات اور جدوجہد کی مکمل عکاسی کی گئی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande