ایم سی ڈی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن نے کھولی پولس، بی جے پی حکومت میں پولیس کی ملی بھگت سے غیر قانونی شراب فروخت ہو رہی ہے:سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 22مارچ(ہ س)۔دہلی میں حکومت اور پولیس کی ملی بھگت سے کھلے عام فروخت ہو رہی غیر قانونی شراب اور منشیات کے معاملے پر اب خود بی جے پی کے لوگ ہی پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اب بی جے پی کی ایم سی ڈی میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ستیہ شرما نے چاندنی چوک
ایم سی ڈی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن نے کھولی پولس، بی جے پی حکومت میں پولیس کی ملی بھگت سے غیر قانونی شراب فروخت ہو رہی ہے:سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 22مارچ(ہ س)۔دہلی میں حکومت اور پولیس کی ملی بھگت سے کھلے عام فروخت ہو رہی غیر قانونی شراب اور منشیات کے معاملے پر اب خود بی جے پی کے لوگ ہی پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اب بی جے پی کی ایم سی ڈی میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ستیہ شرما نے چاندنی چوک میں کھلے عام فروخت ہو رہی غیر قانونی شراب کا انکشاف کرکے اپنی ہی پارٹی اور حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس انکشاف پر عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ستیہ شرما صاف طور پر پولیس پر ملی بھگت کا الزام لگا رہی ہیں۔ اسی طرح چند دن پہلے بھارت نگر تھانے کے ایس ایچ او نے کہا تھا کہ جب بھی پولیس منشیات فروشوں کو پکڑتی ہے تو وزیر اعلیٰ کی طرف سے انہیں چھوڑنے کا حکم آ جاتا ہے۔اتوار کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں مسلسل منشیات کا کاروبار بڑھتا جا رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے نشے میں جرائم کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے میں نے ایل جی سے ملاقات کا وقت مانگا تھا، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ ایل جی اپنی دہلی پولیس کے معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم میں نے انہیں یاددہانی بھیجی ہے اور دوبارہ وقت طلب کیا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جو بی جے پی کی ایم سی ڈی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ستیہ شرما کی ہے۔اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرپرسن کسی حد تک حکومت کے وزیر اعلیٰ کی طرح ہوتا ہے، جبکہ میئر اسپیکر کی طرح ہوتا ہے۔ جس کے پاس ایم سی ڈی چلانے کے آئینی اختیارات ہوتے ہیں، اسی عہدے پر فائز ستیہ شرما نے اپنی ہی حکومت کی دہلی پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں شاید ہی کسی نے اپنی ہی حکومت کی پولیس پر اس طرح کے براہ راست الزامات لگائے ہوں۔انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ چاندنی چوک کے پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے سامنے کا ہے، جہاں کھلے عام ایک چارپائی پر غیر قانونی شراب اور بیئر فروخت کی جا رہی تھی۔ وہاں ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں بوتلیں موجود تھیں، جنہیں چادر سے ڈھانپ کر رکھا گیا تھا۔ جیسے ہی چادر ہٹائی گئی، وہاں بیئر کے کین نظر آئے۔ اس کھلے عام غیر قانونی کاروبار پر ستیہ شرما نے کہا کہ یہ سب دہلی پولیس کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر ملی بھگت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ان کا وہ ٹویٹ اب بھی موجود ہے اور ممکن ہے کہ جلد حذف کر دیا جائے۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی اکاونٹ سے سب سے پہلے ریکھا گپتا کو ٹیگ کیا اور اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ دفتر، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے دفاتر کو بھی ٹیگ کیا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پانچ چھ دن پہلے وزیرپور میں کولی سماج کی ایک لڑکی کی شادی کے موقع پر بارات آ رہی تھی۔ لڑکی کے چچا نے کچھ نشہ کرنے والوں سے راستہ دینے کو کہا، جس پر نشہ کرنے والوں اور منشیات فروشوں نے مل کر انہیں اینٹوں سے مار مار کر قتل کر دیا، جبکہ دوسرے چچا کی حالت نازک ہے۔ جب وہاں کی خواتین بھارت نگر کے ایس ایچ او کے پاس گئیں تو انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ کسی منشیات فروش کو گرفتار کرتے ہیں تو وزیر اعلیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بعد میں دہلی پولیس نے یہ کہہ کر خود کو الگ کر لیا کہ یہ ایس ایچ او کا ذاتی بیان تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایس ایچ او ریکھا گپتا کا رشتہ دار ہے یا ان کے خلاف الیکشن لڑ رہا ہے؟ پولیس کی وردی میں ایک افسر خواتین سے کہہ رہا ہے کہ وہ مجبور ہے، اس سے پوری صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ پانچ دن بعد بی جے پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ سب کچھ پولیس کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے، جبکہ پولیس کہہ رہی ہے کہ اوپر سے حکم آتا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں منشیات کا کاروبار انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔سلطان پوری، منگول پوری، باوانا، کونڈلی، سیلم پور، تریلوک پوری اور سیمہ پوری جیسے علاقوں میں صورتحال بہت خراب ہے، جہاں غریب طبقہ، جھگیاں اور غیر مجاز کالونیاں ہیں۔ خاص طور پر مغربی، شمال مغربی، مشرقی اور شمال مشرقی دہلی اس مسئلے سے شدید متاثر ہیں۔ کم عمر بچے نشہ کر کے قتل، لوٹ مار، چاقو زنی، چھیڑ چھاڑ اور حتیٰ کہ عصمت دری جیسے جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب دہلی میں نئے لیفٹیننٹ گورنر آئے تو انہوں نے وسنت وہار کی آر ڈبلیو اے سے ملاقات کی۔ جب وہ وہاں جا سکتے ہیں تو اپوزیشن سے بھی ملاقات کرنی چاہیے۔

دہلی کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ان سے ملاقات کا وقت مانگ رہی ہے کیونکہ دہلی پولیس براہ راست ان کے ماتحت ہے اور اس پر سنگین الزامات لگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 مارچ کو ایل جی کو خط لکھا گیا تھا، لیکن 22 مارچ تک کوئی جواب نہیں آیا۔ آج دوبارہ یاددہانی بھیجی گئی ہے اور ٹویٹ کے ذریعے بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس انہیں دینے کے لیے پھول نہیں، لیکن شکایات ضرور ہیں، اور ہم دہلی کو بہتر بنانے کے لیے حقیقی مسائل لے کر ان کے پاس جائیں گے۔ وہیں کونڈلی کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ دہلی میں جرائم روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی مسلسل عوام کی آواز اٹھا رہی ہے، لیکن بی جے پی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ کھلے عام قتل ہو رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے اور اس پر کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande