
تل ابیب، 22 مارچ (ہ س)۔ اسرائیل پر ایران کے حالیہ میزائل حملوں میں کم از کم 90 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل میں دو مقامات پر حملے کیے۔ اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان حملوں کا نشانہ اسرائیل کا مرکزی ایٹمی تحقیقی مرکز رہا۔
الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی میزان نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ڈیمونا پر حملہ کر کے نتنز (ایران کی مرکزی ایٹمی افزودگی کی تنصیب) پر کیے گئے حملے کا بدلہ لیا ہے۔ میزان نے کہا کہ اس تنصیبی مرکز میں کسی بھی قسم کی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا ہے۔ یہ مرکز تہران سے تقریباً 135 میل جنوب میں واقع ہے۔
اسرائیل کی ہنگامی امدادی ایجنسی ’میگن ڈیوڈ ایڈوم‘ کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح (مقامی وقت) جنوبی اسرائیلی شہر اراد پر ہونے والے ایرانی حملے میں کم از کم 59 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ علاقے کے اسپتالوں میں لائے گئے 59 افراد میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم کی ٹیمیں ملبے میں دبے لوگوں کی تلاش کر رہی ہیں۔ ڈیمونا اور اراد اسرائیل کے مرکزی ایٹمی تحقیقی مرکز کے قریب واقع ہیں۔ ڈیمونا پر حملے میں کم از کم 31 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کی صبح کہا کہ ہماری فوج مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کے لیے یہ بہت مشکل وقت ہے۔ نیتن یاہو نے اراد پر حملے کے بعد وہاں کے میئر سے بات کی۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ہم تمام محاذوں پر اپنے دشمنوں پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن