
ماسکو، 21 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ شب یوکرین کے 283 ڈرون مار گرائے۔ روس کے اس دعوے نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تصادم اور علاقائی تناؤ کی شدت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
یوکرین کے اخبار یوکرینسکا پراودا، ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو ایجنسی اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، روس کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے رات بھر ملک کے مختلف علاقوں میں یوکرین کے 283 ڈرون مار گرائے۔ سب سے بڑا حملہ جنوبی روستوف کے علاقے میں ہوا، جہاں 90 ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ یہ ڈرون بریانسک، اسمولینسک، کالوگا، بیلگورود، وورونژ، روستوف، وولگوگراد، تولا، ریازان، کرسک، ساراتوف، سمارا اور ماسکو کے علاقوں کے علاوہ تاتارستان جمہوریہ اور مقبوضہ کریمیا کے اوپر بھی روکے گئے۔
اس دوران باشکورتوستان کے دارالحکومت اوفا میں ڈرون حملے کے اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں تیل کی ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ایک ڈرون زیرِ تعمیر رہائشی عمارت پر جا گرا۔ علاقائی سربراہ رادی خابروف نے بتایا کہ ریفائنریوں کے قریب کئی ڈرون مار گرائے گئے۔
تجزیے کے مطابق، یہ ڈرون ممکنہ طور پر باشنیفٹ کی اکائیوں کو نشانہ بنا رہے تھے، جو روس نیفٹ کا حصہ ہے۔ یہ ریفائنریاں اوفا کے شمالی صنعتی علاقے میں واقع ہیں، جو روس کے اہم پیٹروکیمیکل مراکز میں سے ایک ہے۔ روس نیفٹ کے تحت اس علاقے میں تین بڑی ریفائنریاں—باشنیفٹ-اوفا نیفٹیکیم، باشنیفٹ-نووائل اور باشنیفٹ-یو این پی زیڈ—ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں اور ان کا مشترکہ طور پر آپریشن کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ روسی فضائی حملوں کے بعد چیرنیہیف کے علاقے کے زیادہ تر حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ تاہم جاری جنگ کے باعث دونوں فریقوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے۔ مسلسل ڈرون اور فضائی حملوں کے سبب روس-یوکرین جنگ مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے علاقائی اور عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد