
نئی دہلی، 2 مارچ (ہ س)۔ خواتین کے عالمی دن (8 مارچ) کے موقع پر خواتین کو کھیلوں سے جوڑنے کے لیے ملک بھر میں منفرد ایتھلیٹکس لیگ کا انعقاد کیا جائے گا۔ نوجوانوں کے امور اور کھیل کی مرکزی وزارت کی ایکشن ( اے ایس ایم آئی ٹی اے) اسکیم کے ذریعے خواتین کو متاثر کرنے والے کھیلوں کے سنگ میل کے حصول کے تحت 250 مقامات پر ایک ساتھ مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
کھیل کی مرکزی وزیر مملکت رکشا کھڈسے نے پیر کو نئی دہلی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک بھر کی نوجوان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ہو سکتا۔ اے ایس ایم آئی ٹی اے پلیٹ فارم پہلے ہی ملک بھر میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ایس ایم آئی ٹی اے کھیلو انڈیا کے صنفی غیر جانبدار مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد لیگز اور مقابلوں کے ذریعے خواتین کے درمیان کھیلوں کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) مختلف قومی کھیلوں کی فیڈریشنوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں خواتین کی لیگز کا انعقاد کرتی ہے۔ 2021 میں شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا اور نئے ٹیلنٹ کی نشاندہی کرنا ہے۔ کھیلوں کے وزیر مملکت نے کہا کہ 550 سے زیادہ اضلاع اور 700 شہروں میں اے ایس ایم آئی ٹی اے کے تحت 34 کھیلوں کے شعبوں میں 2,600 سے زیادہ لیگز کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام شمال مشرقی ریاستوں جیسے اروناچل پردیش اور میزورم کے دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا ہے۔ یہاں تک کہ پہلے نکسل سے متاثرہ علاقوں میں بھی مقابلے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اب تک 300,000 سے زائد خواتین شرکت کر چکی ہیں۔
کھڈسے نے کہا کہ 8 مارچ کو منعقد ہونے والی اس خصوصی لیگ میں انڈر 13، 13-18 اور 18+ عمر کے گروپوں کے ایتھلیٹکس ایونٹس (100ایم، 200ایم، اور 400ایم) ہوں گے۔ ہر مقام پر پانچ تکنیکی اہلکار، 10 رضاکار، ایک مقابلہ منیجر، ایک سابق چیمپئن ایتھلیٹ (پی سی اے) اور ایک ضلعی نوجوان افسر تعینات کیا جائے گا۔ ریکارڈ 250,000 خواتین کو ایک دن میں شرکت کا ہدف دیا گیا ہے۔ یہ لیگ شمال مشرقی ریاستوں سمیت 30 سے زیادہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منعقد ہوگی۔ کھڈسے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد گاو¿ں اور چھوٹے شہروں کی زیادہ لڑکیوں کو کھیلوں کو کیریئر کے طور پر اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2030 دولت مشترکہ کھیلوں کی تیاری کر رہا ہے اور اس کا مقصد 2036 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تیاری ضلعی سطح سے شروع ہوتی ہے۔ اولمپکس کی میزبانی کے لیے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ بلکہ تربیت یافتہ انسانی وسائل، تصدیق شدہ تکنیکی حکام اور ہر ضلع میں بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ خواتین کے عالمی دن پر یہ اقدام اسی تیاری کا حصہ ہے۔
ہر مقام پر منعقد ہونے والے ایتھلیٹکس مقابلوں میں خواتین تکنیکی عہدیداروں کی شرکت، ترقیاتی ورکشاپس، ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا کے معیارات کے مطابق تربیت، ڈیجیٹل ڈیٹا اپ لوڈنگ اور مقابلہ کی دستاویزات کا بھی اہتمام کیا جائے گا تاکہ صلاحیت کی تعمیر کو فروغ دیا جاسکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی