
جموں، 19 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر پولیس کی نئی حکمت عملی کے باعث جموں خطے کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سال 2023-24 کے دوران پونچھ، راجوری، ادھم پور کے بالائی علاقوں اور کٹھوعہ کے بعض حصوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد پولیس نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔
ڈی جی پی نلین پربھات کی قیادت میں اسپیشل آپریشن گروپ کے تحت سنو لیپرڈز اور مارخور نامی خصوصی یونٹ قائم کیے گئے، جنہیں برفانی اور جنگلاتی علاقوں میں آپریشنز کے لیے تعینات کیا گیا۔ اہلکاروں کو جدید تربیت بھی فراہم کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور سال 2025 تک دہشت گردانہ واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
ڈی جی پی نے حال ہی میں کہا کہ پولیس اب جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں سرگرمی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے آپریشن مہادیو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کارروائی میں تین پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے، جو پہلگام کے بائیسرن علاقے میں شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر