یو اے ای کے تعاون سے زیر سمندر پاور ٹرانسمیشن کیبل نیٹ ورک کو نافذ کرنے کا منصوبہ: منوہر لال
نئی دہلی، 19 مارچ (ہ س)۔ مرکزی وزیر توانائی منوہر لال نے جمعرات کو کہا کہ بجلی صرف توانائی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل کا روڈ میپ ہے۔ حکومت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مل کر’ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ نیٹ ورک‘ کے تحت زیر سمندر پاور ٹرانسمیشن کیبل ن
Energy-Minister-Manohar-Lal


نئی دہلی، 19 مارچ (ہ س)۔ مرکزی وزیر توانائی منوہر لال نے جمعرات کو کہا کہ بجلی صرف توانائی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل کا روڈ میپ ہے۔ حکومت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مل کر’ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ نیٹ ورک‘ کے تحت زیر سمندر پاور ٹرانسمیشن کیبل نیٹ ورک کو نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

نئی دہلی میں انڈیا الیکٹرسٹی سمٹ 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منوہر لال نے کہا کہ ہندوستان میں بجلی بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ کفایتی ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں، حکومت نے 209,000 سرکٹ کلومیٹر بجلی کی ترسیلی لائنوں کا اضافہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر توانائی نے سرمایہ کاری اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے مضبوط عالمی توانائی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے سب کے لیے قابل اعتماد اورکفایتی بجلی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور پائیدار منتقلی کو فعال کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ الیکٹرانکس کی پیداوار 1.1لاکھ کروڑسے بڑھ کر 11.8 لاکھ کروڑہو گئی ہے، جو چھ گنا سے زیادہ اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں 300 گھریلو صنعت کار ہیں۔

بجلی کے سکریٹری پنکج اگروال نے کہا کہ ملک کو اگلے دو دہائیوں میں پاور سیکٹر میں تقریباً 2200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے 2030 تک 500 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کا ہدف مقرر کیا ہے اور مالی سال 2034-35 تک کوئلے سے چلنے والی تھرمل پاور کی پیداواری صلاحیت میں 97 گیگا واٹ کا اضافہ کیا ہے۔

اس سمٹ میں 25,000 سے زائد زائرین، 500 نمائشی کمپنیاں، 147 اسٹریٹجک کانفرنس اسپیکر، 300 سے زیادہ کانفرنس اسپیکر اور تقریباً 70 بین الاقوامی مقررین یکجاہوئے ہیں، جس سے یہ بجلی کے شعبے کی سب سے بڑی عالمی کانفرنسوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande