الیکشن کمیشن کی کارروائی پر ممتا بنرجی کاحملہ، کہا- بنگال کو نشانہ بنانا تشویشناک ہے
کولکاتا، 19 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابات سے قبل سینئر انتظامی اور پولیس اہلکاروں کے تبادلوں کو لے کر انتخابی کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بنگال کو الگ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ، بہت تشو
Ec-mamata-transfer-twitter


کولکاتا، 19 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابات سے قبل سینئر انتظامی اور پولیس اہلکاروں کے تبادلوں کو لے کر انتخابی کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بنگال کو الگ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ، بہت تشویشناک ہے۔

وزیر اعلی نے الزام لگایا کہ چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری، اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سمیت 50 سے زائد سینئر عہدیداروں کو انتخابات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہی اچانک ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے اسے انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اعلیٰ سطح کی سیاسی مداخلت قرار دیا۔

جمعرات کو ایک ایکس پوسٹ میں، ممتا بنرجی نے کہا کہ غیرجانبدار رہنے والے اداروں کو سیاست میں شامل کرنا آئین پر سیدھا حملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ووٹرفہرست پر نظرثانی کا عمل سنگین طور پر ناقص ہے اور اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سپلیمنٹری ووٹر لسٹ ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں بے یقینی پائی جاتی ہے۔

افسران کو ریاست سے باہر بھیجنے پر سوال

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اہم تفتیشی ایجنسیوں کے سینئر افسران کو چن چن کر ہٹا کر ریاست سے باہر بھیجا جا رہا ہے، جو ریاست کے انتظامی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلوں میں تضاد کا بھی الزام لگایا۔ ان کے مطابق، جن اہلکاروں کو ان کی انتخابی ذمہ داریوں سے الگ کیا گیا تھا، بعد میں انتخابی مشاہد مقرر کر کے دوسری ریاستوں میں بھیج دیا گیا۔

پولیس کمشنرز کی تقرری پر بھی اعتراض

انہوں نے کہا کہ متبادل انتظامات کئے بغیر سلی گوڑی اور بدھان نگر کے پولیس کمشنروں کو بطور مشاہد بھیجنے سے دونوں اہم شہری علاقوں میں انتظامی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ بعد میں جب صورتحال واضح ہوئی تو اصلاحی اقدامات کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اب اداروں کے ذریعے دباو¿ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگال نے کبھی بھی دباو¿ کی سیاست کے سامنے جھکنا قبول نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کرے گا۔

ریاستی حکومت کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ایمانداری سے کام کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگال اپنی جمہوری روایت کے مطابق ہر قسم کے دباو¿ کا مقابلہ کرے گا اور ریاست کے عوام کسی بھی تقسیم کی سیاست کو قبول نہیں کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande