
بھوپال، 17 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش نے ہیومن پیپیلوما وائرس انفیکشن (ایچ پی وی) ٹیکہ کاری مہم میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ریاست میں سروائیکل کینسر سے بچاو کے لیے 14 سال کی ایک لاکھ سے زائد لڑکیوں کی ٹیکہ کاری مکمل کر لی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش اس مہم کے کامیاب نفاذ میں ملک میں پہلے مقام پر قابض ہو گیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم میں محض 15 دنوں میں ریاست کی ایک لاکھ سے زائد بیٹیوں کو ویکسین لگا کر مدھیہ پردیش کے ملک میں اول رہنے پر محکمہ صحت کی ٹیم، اے این ایم، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے منگل کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں بیٹیوں کو سروائیکل کینسر کے خلاف تحفظ کی مضبوط ڈھال فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی مہم کے ریاست میں کامیاب نفاذ میں اس ٹیم کا اہم کردار رہا ہے۔
مدھیہ پردیش کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود راجیندر شکلا نے ریاست میں 14 سال کی عمر کی ایک لاکھ سے زائد نوعمر لڑکیوں کی کامیاب ایچ پی وی ٹیکہ کاری پر محکمہ صحت کی ٹیم، ضلع انتظامیہ اور معاون اداروں کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ریاست کی بیٹیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
نائب وزیراعلیٰ شکلا نے منگل کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 28 فروری 2026 کو اجمیر، راجستھان سے اس خصوصی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا قومی سطح پر آغاز کیا تھا۔ مدھیہ پردیش اس مہم کے تحت ایک لاکھ سے زائد لڑکیوں کی ٹیکہ کاری کر کے ملک میں سب سے زیادہ ایچ پی وی ٹیکہ کاری والی ریاست بن گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ماوں اور بہنوں کی صحت ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقریباً 4,000 روپے مالیت کا یہ ٹیکہ 14 پلس عمر کی بیٹیوں کو مفت لگایا جا رہا ہے اور ایک ڈوز مستقبل میں بچہ دانی اور سروائیکل کینسر کے خطرے سے تاحیات تحفظ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ منڈلا، بالاگھاٹ، ڈنڈوری، راج گڑھ اور کھرگون اضلاع کا اس کامیابی میں خصوصی تعاون رہا ہے۔ ریاست میں مہم کے کامیاب نفاذ کے لیے ضلع کی سطح پر کلکٹروں کی صدارت میں تال میل قائم کیا گیا اور اسکولی تعلیم، خاتون و اطفال بہبود، محکمہ پنچایت سمیت مختلف رضاکار تنظیموں کا اہم تعاون حاصل ہوا۔
نائب وزیراعلیٰ شکلا نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ ریاست کی تقریباً آٹھ لاکھ لڑکیوں کو ایچ پی وی ٹیکہ لگایا جائے۔ اس کے لیے مرحلہ وار منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پہلے زیادہ بھیڑ بھاڑ والے شہری بلاکس، پھر دور دراز اور قبائلی علاقے، موبائل ٹیمیں، اسکول پر مبنی سیشن اور شہری مراکز صحت پر واک-ان سلاٹ، یہ تینوں ماڈل متوازی طور پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی 14 سال کی عمر کی لڑکیوں کی ایچ پی وی ٹیکہ کاری ضرور کرائیں، تاکہ سروائیکل کینسر جیسی سنگین بیماری سے ان کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ریاست کا محکمہ صحت بیٹیوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے مکمل وابستگی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور بقیہ اہل لڑکیوں کی ٹیکہ کاری بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن