
سپول، 16 مارچ (ہ س)۔ ضلع کے تروینی گنج بلاک کی گونہا اور ہریہر پٹی پنچایتوں کو جوڑنے والے بہیڑوا ندی پر پل نہ ہونے سے گاؤں والے سخت ناراض ہیں۔ یہ ندی دو پنچایتوں کے مغربی اور مشرقی حصوں کو الگ کرتا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ کے سفر میں خاصی مشکلات پیش آتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق برسات کے موسم میں لوگ چچری کا سہارا لے کر ندی عبور کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ندی کے دونوں کناروں پر پکی سڑک تو بنائی گئی ہے لیکن پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سڑک سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گاؤں والے گذشتہ پندرہ سالوں سے پل کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی بار سروے ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔گاؤں والوں نے بتایا کہ انہوں نے پُل کی تعمیر کا مطالبہ کرنے کے لیے گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بارش کے موسم میں لوگوں کو تروینی گنج بلاک، سرکل اور سب ڈویژن دفاتر، بینکوں اور بازاروں تک پہنچنے کے لیے پانچ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ رورل ورکس ڈپارٹمنٹ کے ایک انجینئر نے بتایا کہ پل کی تعمیر حکومت کی ترجیح ہے، اور بہیڑوا ندی پر پل کی تعمیر کا عمل محکمانہ سطح پر شروع کیا گیا ہے۔دریں اثنا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میںندی کو پار کرنا انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے ۔ پار کرتے ہوئے کئی افراد ڈوب چکے ہیں ۔ گاؤں کے رہنماؤں بھومی مکھیا، چھوٹو مکھیا، چھوٹارو مکھیا، لال مکھیا، لکشمی مکھیا، چندر دیو منڈل، بھوٹانیہ دیوی، سیارام ساہ، سدھیر سنگھ اور آشیش کمار سمیت دیگر نے کہا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے بارش کے موسم میں گاڑیوں کے ساتھ اپنے گھروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شادی جیسے مواقع پر بھی گاڑیاں ندی کے کنارے پر کھڑی کی ہے اور دولہا اور دلہن کو پیدل یا عارضی پل کے ذریعے ندی عبورکرناپڑتاہے۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ سیاست داں انتخابات کے دوران بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن جیتنے کے بعد علاقے کے اس سنگین مسئلے کو بھول جاتے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan