
جموں, 16 مارچ (ہ س)۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر حالیہ قاتلانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اپنی سیکورٹی کا فوری جائزہ لینے اور قافلے میں جیمر اور بلٹ پروف گاڑی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ نے پولیس حکام کو بتایا کہ تقریباً چھ ماہ قبل مرمت کے بہانے ان کے قافلے سے جیمر گاڑی ہٹا لی گئی تھی جسے اب تک دوبارہ فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ ان کی سیکورٹی سے متعلق مطالبات کو اب تک سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
بدھ کے روز جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران فاروق عبداللہ پر قریب سے فائرنگ کی گئی تھی تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد 63 سالہ ملزم کمل سنگھ کو موقع پر ہی قابو کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
راجوری میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ سیکورٹی کا انتظام کرنا سیکورٹی اور پولیس محکموں کی ذمہ داری ہے اور سیکورٹی میں اضافہ خطرے کے اندازے کی بنیاد پر متعلقہ محکموں کو ہی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکام سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی بڑھانے کی ضرورت ہے تو وہ ایسا کریں اور اگر نہیں تو موجودہ سیکورٹی بھی واپس لے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عوام کی خدمت کے لیے منتخب کیا گیا ہے نہ کہ اپنی ذاتی سیکورٹی کے معاملات میں الجھنے کے لیے۔ انہوں نے فاروق عبداللہ پر فائرنگ کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گولیاں نہ مذہب دیکھتی ہیں اور نہ ہی عہدہ، یہ کسی کو بھی لگ سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سیکورٹی) کو لکھے گئے ایک سرکاری خط میں نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ تعینات خصوصی ڈیوٹی افسر نے کہا کہ 13 مارچ کو نوشہرہ اسمبلی حلقے کے دورے کے لیے قافلے میں بلٹ پروف فورچیونر گاڑی شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو 15 مارچ سے فراہم کی جانی تھی، تاہم اب تک گاڑی مہیا نہیں کی گئی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ سیکورٹی صورتحال اور فاروق عبداللہ پر حالیہ فائرنگ کے واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا تھا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے پرانی اور غیر قابل اعتماد گاڑیوں کو تبدیل کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔خط کے مطابق اس وقت قافلے میں شامل بلٹ پروف گاڑی، پائلٹ اور اسکاوٹ گاڑیاں میکانکی طور پر ناقابل اعتماد ہو چکی ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کے باعث سنگین حادثات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام سے بار بار درخواستوں کے باوجود اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال اور نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے، جن میں دور دراز اور حساس علاقوں کے دورے شامل ہیں، مکمل اور قابل اعتماد سیکورٹی کے بغیر سفر کرنا ایک بڑا خطرہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر