
نئی دہلی، 16 مارچ (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے چار سالہبی ٹیک کی طرح چار سالہ لاءکورس کے امکانات کا پتہ لگانے کے لیے ایک قانونی تعلیم کمیشن کے قیام کی درخواست کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے اپریل میں اس معاملے کی سماعت کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اس طرح کے مسائل کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت کی ضرورت ہے۔ عدلیہ صرف ایک فریق ہے۔ ماہرین تعلیم، قانونی ماہرین، بار، اور پالیسی محققین بھی ہیں۔ ایسے موضوعات پر وسیع بحث ہونی چاہیے۔ ہم آپ کے خیالات مسلط نہیں کر سکتے۔
یہ عرضی وکیل اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے نے دائر کی ہے۔ اس سے قبل اشونی اپادھیائے نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ مئی 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کو یہ ہدایت دے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق پانچ سالہ لاءکورس کو ڈیزائن کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے سابق ججوں، ماہرین قانون اور ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ پانچ سالہ قانون کے کورس کو چار سالہ کورسبنایا جا سکے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بی اے، بی بی اے اور بی کام تمام لاءکی طرح ہی گریجوئیشن کورس ہیں۔ اس لیے پانچ سالہ ایل ایل بی کے بجائے چار سالہ ایل ایل بی کورس کو ڈیزائن کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں چار سالہ گریجویشن کورس کی بات کی گئی ہے لیکن بار کونسل آف انڈیا نے نہ تو پانچ سالہ ایل ایل بی کورس کا جائزہ لیا اور نہ ہی چار سالہ ایل ایل بی کورس شروع کیا۔ جہاںبی ٹیک کے طلباءکو آئی آئی ٹی چار برسوں میں گریجویشن کی ڈگریاں فراہم کرتاہے ، وہیں ایل ایل بی طلباءکو پانچ برسوں میں نیشنل لاء یونیورسٹیز کے ذریعے گریجویشن کی ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ ایسے میں پانچ سالہ قانون کا کورس کرنے والوں کو دوسرے گریجویشن کورسز کے مقابلے میں ایک سال زیادہ دینا پڑتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پانچ سالہ لاء کا کورس پیسے وصولی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ایل ایل بی کا تین سالہ کورس بارہویں جماعت کے بعد کرایا جاتا تھا۔ سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے 17 سال کی عمر میں وکیل کے طور پر پریکٹس شروع کر دی تھی ۔معروف وکیل فالی ایس نریمن نے 21 سال کی عمر میں بطور وکیل پریکٹس شروع کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد