اچھا مسلمان اور ذمہ دارہندوستانی شہری بننے میں کوئی تضاد نہیں: مولانا جمیل قاسمی
علی گڑھ, 16 مارچ (ہ س)اسلامی تعلیمات میں حب الوطنی کو ایک فطری اور قابل احترام جذبہ قرار دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مولانا جمیل احمد قاسمی نے کیا وہ مذکورہ موضوع کی مناسبت سے اپنے تاثرات کا اظہار کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ایک راسخ
مسلم


علی گڑھ, 16 مارچ (ہ س)اسلامی تعلیمات میں حب الوطنی کو ایک فطری اور قابل احترام جذبہ قرار دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مولانا جمیل احمد قاسمی نے کیا وہ مذکورہ موضوع کی مناسبت سے اپنے تاثرات کا اظہار کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری ہونے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی عقیدہ اور ہندوستانی حب الوطنی ایک دوسرے کے مخالف ہیں یہ سراسر غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام انسان کو اس معاشرے کے امن، ترقی اور استحکام میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنا پڑی تو تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے مکہ سے اپنی گہری محبت کا اظہار کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اپنی سرزمین سے محبت کرنا اور اس کی بھلائی کے لیے کام کرنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور بنیادی حقوق فراہم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں امت کا تصور عالمی بھائی چارے اور روحانی رشتے کی علامت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی مسلمان اپنے ملک کے ساتھ وفادار نہیں رہ سکتا۔مولانا جمیل قاسمی نے جنگ آزادی کی جدوجہد میں مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق اللہ خان اور خان عبدالغفار خان جیسے رہنماؤں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ وطن سے محبت اور قومی خدمت کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ ایک متحد اور کثیرالثقافتی ہندوستان کے نظریے کی حمایت کی اور ملک کی آزادی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے دور میں ایک ذمہ دار شہری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم، سائنسی ترقی، معیشت اور سماجی خدمت کے میدانوں میں فعال کردار ادا کیا جائے۔ جب مسلمان ملک کی ترقی اور سماجی ہم آہنگی میں اپنا مثبت حصہ ڈالیں گے تو یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ ایمان اور حب الوطنی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande