حکومت کا اعادہ: ملک میں کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہیں۔
نئی دہلی، 16 مارچ (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے درمیان، مرکزی حکومت ملک کے اندر توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے، تجارتی جہازوں کے محفوظ انخلاءاور ہندوستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر اس بات کا ا
گیس


نئی دہلی، 16 مارچ (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے درمیان، مرکزی حکومت ملک کے اندر توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے، تجارتی جہازوں کے محفوظ انخلاءاور ہندوستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور تقسیم کار ایجنسیوں کے پاس مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ ایل پی جی سے لدا ایک جہاز اس وقت ہندوستانی ساحل کی طرف جا رہا ہے۔

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل سپلائی مل رہی ہے، اور ملک میں کہیں بھی ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر اسٹاک کی کمی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد بکنگ اب آن لائن کی جاتی ہیں، اور 'ڈیلیوری تصدیقی کوڈ' کا استعمال بڑھ کر 72 فیصد ہو گیا ہے۔ ریاستی حکومتوں نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف اپنا کریک ڈاو¿ن تیز کر دیا ہے۔ مزید برآں، پی این جی اور ایل پی جی دونوں کنکشن رکھنے والے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کریں اور گھبراہٹ میں بکنگ کرنے سے گریز کریں۔

مزید برآں، خام تیل کی سپلائی کافی ہے، اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ بھی معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور کہیں سے بھی فیول اسٹاک ختم ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ قدرتی گیس کی سپلائی بھی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور سی این جی اور پی این جی صارفین کے لیے 100 فیصد دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ کمرشل ایل پی جی صارفین کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ پی این جی پر جائیں۔ اس کی سہولت کے لیے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) کمپنیاں مراعات دے رہی ہیں اور نئے کنکشن جاری کرنے کے عمل کو تیز کر رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پیر کو کہا کہ مختلف چیلنجوں کے باوجود تہران میں ہمارا سفارت خانہ پوری طرح سے کام کر رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران، سفارت خانے نے تہران سے طلباءکو بھی نکالا ہے، اور انہیں ان شہروں میں منتقل کیا ہے جو ان کے لیے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایران میں موجود 550 سے زیادہ ہندوستانی شہری زمینی سرحد عبور کر کے آرمینیا پہنچ چکے ہیں۔ مزید برآں، ہمارے تقریباً 90 شہریوں نے زمینی سرحدوں کے ذریعے ایران سے آذربائیجان کا سفر کیا ہے۔ تہران میں ہمارے سفارت خانے نے ان افراد کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی۔ سفارت خانے نے نہ صرف ویزا حاصل کرنے میں بلکہ ضروری امیگریشن فارمیلٹیز کو مکمل کرنے میں بھی ان کی مدد کی۔ اس گروپ میں سے 284 افراد زیارت کے لیے ایران گئے تھے۔ ان میں سے کچھ پہلے ہی ہندوستان واپس آچکے ہیں، جبکہ باقی آنے والے دنوں میں واپس آنے کی امید ہے۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بتایا کہ ایل پی جی کیریئر *شیوالک* خلیج فارس سے روانہ ہوا ہے، آبنائے ہرمز کو عبور کرچکا ہے، اور فی الحال ہندوستان کے راستے میں ہے۔ اس کے آج شام تقریباً 5:00 بجے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کی آمد سے قبل، تمام ضروری انتظامات بشمول دستاویزات اور ترجیحی برتھنگ کو بندرگاہ پر پہلے ہی حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جہاز سے کارگو اتارنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے مزید تصدیق کی کہ اس وقت خلیج فارس کے علاقے میں موجود تمام ہندوستانی بحری جہاز محفوظ ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم ہر جہاز اور اس کے عملے کے ارکان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ فی الحال، 22 ہندوستانی پرچم والے جہاز خلیج فارس کے اندر موجود ہیں، جو آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع ہے۔ ان جہازوں میں کل 611 ہندوستانی ملاح سوار ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande