
اداکارہ تنوشری دتہ ایک بار پھر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ہونے والے استحصال کو لے کر اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ’می ٹو‘ تحریک کے دوران سرخیوں میں آئی تنوشری نے حال ہی میں انڈسٹری کے اندرونی ماحول کو لے کر سنگین دعوے کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ گلیمر کی دنیا میں آنے والے بہت سے نئے اداکاروں کو غلط طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے اور کئی بار انہیں ذہنی اور جسمانی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صرف خوبصورتی پر ملتی ہے تعریف
تنوشری نے کہا کہ انڈسٹری میں اکثر کسی کے ہینڈسم یا خوبصورت نظر آنے پر اس کی فوری طور پر تعریف کی جاتی ہے جبکہ اصل ہنرکو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، نئے فن کاروں کو میٹنگ کے نام پر غلط جگہوں پر بلایا جاتا ہے یاپھر غلط لوگوں کے پاس بھیجا جاتا ہے،جس سے وہ الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔
لفظ چاکلیٹ کا مطلب بڑے خواب دکھانا
اداکارہ نے وضاحت کی کہ بالی ووڈ میںچاکلیٹ لفظ کا استعمال کئی بار خواہشات اور بڑے خواب کے لالچ کی علامت کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تعریف ملنے پر فنکاراعتماد کرنے لگتے ہیں اور اسی بھروسے کا فائدہ اٹھا کر انہیں گمراہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے نئے فن کاروں کو تحمل سے کام لینے اور صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کا مشورہ دیا۔
امیدوں کو ہتھیار بناتے ہیں شکاری
تنوشری نے کہا کہ جس طرح والدین بچپن میں اجنبیوں سے ہوشیار رہنے کو کہتے ہیں، اسی طرح تفریحی صنعت میں بھی محتاط رہنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، کچھ لوگ فنکاروں کی توقعات اور خواہشات کو ہتھیار بنا کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سب اس لئے شیئر کر رہی ہیں تاکہ اس سے کچھ لوگوں کو محتاط کیا جا سکے ۔
کام کے بدلے زندگی کا سودا نہیں کروں گی
تنوشری نے واضح کیا کہ ان کے لیے کام سے زیادہ عزت نفس اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے گلیمر کے پیچھے بہت سی تلخ حقیقتیں پوشیدہ ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد