
کولمبو، 13 مارچ (ہ س)۔ سری لنکا نے امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی بحریہ کے 84 ایرانی اہلکاروں کی لاشیں وطن واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تمام اہلکار 4 مارچ کو ایرانی جنگی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا پر امریکی ٹارپیڈو حملے میں مارے گئے تھے۔حملے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے بچائے گئے ایرانی بحریہ کے 32اہلکارفی الحال سری لنکا میں ہی رہیں گے۔ ایران کی جانب سے بھیجے گئے چارٹرڈ طیارے میں لاشیں بھیجنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
سری لنکا کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ ایرانی بحریہ کے ان84 اہلکاروں کی لاشیں ایران کو واپس بھیج رہی ہے جو نو روز قبل ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ تب ہوا جب ایرانی جنگی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا سری لنکا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی آبی علاقے میں سفر کر رہا تھا اور اس پر امریکی آبدوز کے ذریعہ ٹارپیڈوداغے جانے سے وہ ڈوب گیا تھا۔
وزارت خارجہ کی ترجمان ،تھوشارا روڈریگو نے بتایا کہ لاشوں کو ایران کی طرف سے بھیجے گئے چارٹرڈ کارگو طیارے سے لے جایاجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل سے متعلق تمام گھریلو رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
حملے کے ایک دن بعد،سری لنکا کی بحریہ نے ایرانی بحریہ کے32 اہلکاروں کو بچا لیا تھا، جنہیںفی الحال سری لنکا میں ہی رکھا گیا ہے ۔ ایرانی بحریہ کے زخمی اہلکاروں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جن میں سے 22 کو اب ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ انہیں جزیرے کے جنوبی حصے میں فضائیہ کے ایک اڈے پر رکھا گیا ہے۔
یہ واقعہ 4 مارچ کو پیش آیا جب سری لنکا کے ساحل پر ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا پر ٹارپیڈو سے حملہ کر دیا گیا۔ اس واقعے کی بڑے پیمانے پر بین الاقوامی مذمت ہوئی، جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ مغربی ایشیا کا تنازعہ بحر ہند کے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔
حملے کے ایک دن بعد، ایک اور ایرانی جنگی جہاز آئیرس بوشہر کو سری لنکا کے پانیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ سری لنکا جہاز اور اس کے 219 عملے کے ارکان کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت یہ جہاز سری لنکا کی بحریہ کی حفاظت میں ہے اور اس کے خراب انجنوں کو ٹھیک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دریں اثنا، تیسرا ایرانی جنگی جہاز سری لنکا سے روانہ ہوا اور ہندوستانی بندرگاہ کوچی پہنچا، جہاں اس کے عملے کے 183 ارکان ہندوستانی تحفظ میں ہیں۔
سری لنکا اور ہندوستان دونوں نے کہا ہے کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایرانی بحریہ کے اہلکاروںکو پناہ دی ہے کیونکہ خطے میں جاری حملوں کی وجہ سے ان کی حفاظت خطرے میں تھی۔
حکام کے مطابق سمندر سے برآمد ہونے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم سری لنکا کے گالے کے کراپیٹیا اسپتال میں کیا گیا۔ بعد ازاں، مقامی عدالت کے حکم پر لاشوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کے لیے کولمبو میں ایرانی سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا۔ لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی کیمیکلز سے ٹریٹمنٹ کے بعد سیل بند ڈبوں میں بند کیا گیا تھا۔
میتیں جنوبی سری لنکا کے مٹالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے ایران پہنچائی جائیں گی۔ سکیورٹی کے پیش نظر ایئرپورٹ پر اضافی سکیورٹی تعینات کردی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد