
جموں و کشمیر اسمبلی کے بجٹ کا دوسرا مرحلہ، شراب پر مکمل پابندی کا بل پیش ہونے کا امکان
جموں، 13 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 27 مارچ سے شروع ہوگا، جس میں متعدد نجی ارکان کے بل اور تجاویز ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔ ان بلوں میں شراب اور تمباکو پر پابندی، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی، مذہبی مقامات کے انتظام اور کشمیری مہاجرین کی بازآبادکاری جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اجلاس میں تقریباً 72 نجی بل زیر غور آئیں گے، جن میں سے کچھ گزشتہ اجلاس سے زیر التوا ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر علی محمد ساگر نے جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی کے لیے نجی بل پیش کیا ہے۔اسی طرح نیشنل کانفرنس کے ہی ایم ایل اے احسان پردیسی نے لال چوک حلقہ میں شراب والی اشیاء پر پابندی لگانے کے لیے بل جمع کرایا ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی کے ایم ایل اے شیخ خورشید احمد نے بھی کشمیر وادی میں شراب کی فروخت، ذخیرہ اور نقل و حمل پر مکمل پابندی لگانے کا بل پیش کیا ہے۔
اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کی تیاری، فروخت، تشہیر اور استعمال پر پابندی کے لیے بھی قانون بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ پی ڈی پی کے ایم ایل اے اور سابق راجیہ سبھا رکن میر محمد فیاض نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں شراب کی تیاری، فروخت، تشہیر اور استعمال پر پابندی کے لیے بل پیش کیا ہے۔دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے عبدالمجید بھٹ (لارمی) نے سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے۔ جبکہ سی پی ایم کے ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی، پی ڈی پی کے ایم ایل اے وحید الرحمن پرّا اور بی جے پی کے ایم ایل اے دیویندر کمار منیال نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے یومیہ اجرت دار اور کیجول مزدوروں کی خدمات کو مستقل بنانے کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ پامپور سے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے حسنین مسعودی نے ریڈ کیٹیگری صنعتوں سے متعلق بل پیش کیا ہے۔ پی ڈی پی کے ایم ایل اے آغا سید منتظر مہدی نے کشمیری مہاجرین، خصوصاً کشمیری ہندوؤں کی وادی میں محفوظ اور باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ری یونین کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر