
ساگر، 12 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع کے کیسلی تھانہ علاقے میں جمعرات کو ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جس نے پورے علاقے کو سکتے میں ڈال دیا۔ ٹڈا چوکی کے تحت گرام کھمریا میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنی چار معصوم بیٹیوں کو کنویں میں دھکیل دیا، جس کے بعد وہ خود گھر میں پھانسی کے پھندے پر لٹکی ملی۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت ہو گئی۔
پولیس سے حاصل معلومات کے مطابق 30 سالہ سویتا لودھی نے اپنی چاروں بیٹیوں کو گاؤں کے قریب ہرپال گھوسی کے کھیت میں بنے کنویں میں پھینک دیا۔ پانی میں ڈوبنے سے تمام بچیوں کی موت ہو گئی۔ متوفین کی شناخت سویتا بائی (28) اور بیٹیوں انشیکا (7)، رکشا (5) اور دیکشا (3) کے طور پر ہوئی ہے۔ بیٹیوں کی لاشیں قریب کے کنویں میں ملیں۔ اس کے بعد خاتون نے بھی ایک درخت پر پھندہ لگا کر اپنی جان دے دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مدھیہ پردیش پولیس کی ٹیم کیسلی تھانہ اور ٹڈا چوکی سے موقع پر پہنچی اور جانچ شروع کی۔ پولیس نے مقامی لوگوں کی مدد سے کنویں سے چاروں بچیوں کی لاشیں باہر نکالیں۔ تمام لاشوں کو پنچنامہ کی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فورینسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات کا ابھی تک واضح طور پر پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اہل خانہ اور گاوں والوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی پورے واقعے کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
موضع کھمریا میں ہونے والے اس دردناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم کا ماحول ہے۔ پولیس معاملے کے ہر پہلو کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ اس واقعے کے پیچھے کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن