
مشرقی سنگھ بھوم، 11 مارچ (ہ س)۔ جگسلائی تھانہ علاقہ میں ٹیوشن ٹیچر کے ظلم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ امتحان میں کم نمبر آنے سے مشتعل استاد نے دو کمسن بچوں کو بری طرح پیٹا۔ اس پٹائی میں ایک بچی کی انگلی ٹوٹ گئی جبکہ دونوں بچوں کے جسم پر چوٹ کے متعدد نشان پائے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جگسلائی کی رہائشی طیبہ کے بچے غلام غوث اور مائرہ فردوس ٹیوشن کے لیے مقامی ٹیچر پربھات کے پاس جاتے تھے۔ دونوں بچے بیلڈیہ چرچ اسکول کے طالب علم ہیں۔ اسکول نے پیر کو اپنے امتحانی نتائج کا اعلان کیا۔ منگل کو دونوں بچے اپنے ٹیوشن ٹیچر کے پاس اپنے نتائج لے کر پہنچے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی استاد پربھات نے بچوں کے کم نمبر دیکھے ، وہ غصے میں آگئے اور دونوں کو ڈنڈے اور ہاتھوں سے بری طرح مارنا شروع کردیا۔ بچوں پر گہرے زخم آئے اور مائرہ فردوس کی انگلی میں فریکچر بھی ہو گیا۔
بچوں کی والدہ طیبہ نے بتایا کہ جب وہ شام کو ٹیوشن سے انہیں لینے پہنچی تو ان کا بیٹا خوفزدہ تھا اور ٹیچر کو دھکا دے کر ان کی طرف بھاگ آیا۔ گھر پہنچ کر جب بچوں کی حالت دیکھی گی تو گھر والوں کے ہوش اڑ گئے ۔ دونوں بچوں کے جسم پر پٹائی کے نشانات تھے اور بیٹی کی انگلی فریکچر تھی۔ افطاری کے دوران بچوں کی ایسی حالت دیکھ کر اہل خانہ پریشان ہو گئے۔
اس واقعہ سے ناراض ہو کر خاندان کے لوگ منگل کی رات جگسلائی تھانے پہنچے اور ملزم ٹیچر کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی۔ پولیس نے بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ ملزم ٹیچر کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد