
مشرقی سنگھ بھوم، 11 مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات اب مشرقی سنگھ بھوم (جمشید پور) میں محسوس ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی صورتحال کے درمیان شہر میں کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کے حوالے سے لوگوں کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈروں کی بکنگ میں مشکلات آر ہی ہیں جبکہ بلیک مارکیٹنگ کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔ جس سے عام لوگوں کے باورچی خانے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اور لوگ کافی پریشان ہیں۔
شہر کے جگسلائی علاقے میں واقع کابرا گیس ایجنسی میں بدھ کے روز صارفین کی بڑی تعداد نے گیس کی بکنگ اور سلنڈر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے پہنچی۔ ایجنسی کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھا گیا۔ بکنگ کرانے پہنچی آشا پانڈے اور سنت بہرا سمیت کئی صارفین نے بتایا کہ وہ پچھلے تین چار دنوں سے آن لائن گیس بک کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بار بار کوشش کے باوجود بکنگ نہیں ہو سکی ۔ نتیجتاً، وہ براہ راست ایجنسی جانے پر مجبور ہوئے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ بکنگ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت گیس نہیں مل پا رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ مارکیٹ میں گیس سلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ گھریلو گیس سلنڈر، جن کی قیمت تقریباً 1000 روپے ہے، بعض جگہوں پر 1800 سے 2000 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس سے عام صارفین پریشان ہیں اور وہ انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تاہم کابرا گیس ایجنسی کے آپریٹرز نے گیس کی کمی کی تردید کی ہے۔ ایجنسی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گیس کی سپلائی معمول پر ہے اور تمام صارفین کو سلنڈر دستیاب کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بہت سے لوگ گیس کو اوور بک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈیلیوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ایجنسی آپریٹرز کے مطابق، آن لائن بکنگ سسٹم میں کچھ وقفے کے لئے تکنیکی خرابی تھی جس کی وجہ سے صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور بکنگ کا عمل دوبارہ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔
اس کے باوجود شہر کے کئی علاقوں میں گیس کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی صورتحال اور افواہوں کی وجہ سے لوگ اضافی سلنڈر جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ صارفین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی بلیک مارکیٹنگ پر کڑی نظر رکھی جائے اور ضرورت مندوں کو سلنڈر کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام لوگوں کے باورچی خانے پر اس کا اثر نہ پڑے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد