
جبل پور، 10 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں پیر کی رات بیل باغ تھانہ علاقہ کے تحت پھوٹاتال چوراہے سے ممتاز بلڈنگ تک ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے پوسٹرز لگائے گئے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں مظاہرین نے ’تم کتنے خامنہ ای مارو گے، ہر گھر سے خامنہ ای نکلے گا‘، ’شیعہ سنی بھائی بھائی‘ اور ’اللہ اکبر‘ جیسے نعروں کے ساتھ اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ احتجاج میں خواتین، مرد اور بچوں کی بڑی تعداد ہاتھوں میں موم بتیاں لے کر شامل ہوئی۔
مظاہرین میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھا گیا اور شیعہ برادری سے وابستہ خواتین و مرد حضرات نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ’قاتل‘ قرار دیا۔ احتجاج میں شامل سکینہ فاطمہ نقوی نے کہا کہ ہم فلسطین اور ایران کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور خامنہ ای کا بدلہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خامنہ ای کی شہادت سے اسلام نہیں جھکے گا، بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیا ہے۔ سید عروج علی نے کہا کہ خامنہ ای کسی ایک فرقے کے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیڈر تھے کیونکہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔
مظاہرین نے حکومتِ ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ اور اسرائیل پر دباو ڈالیں اور اس معاملے پر خاموشی توڑیں تاکہ ملک کے 36 کروڑ مسلمانوں کو یہ احساس ہو کہ وزیر اعظم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے لیے بھی آواز اٹھائی تھی کیونکہ ہم ہر اس جگہ ظلم کے خلاف ہیں جہاں بچے اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔
اس احتجاجی مظاہرے کے بعد ہندو تنظیموں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پھوٹاتال اور لکڑ گنج کے علاقوں میں لگے بینرز اور پوسٹرز ہٹوا دیے ہیں۔ شہر میں اس معاملے کو لے کر اندرونی طور پر بے چینی دیکھی جا رہی ہے اور ایران و فلسطین کی حمایت میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن