’ہیرا پھیری‘ فرنچائز پر حقوق کی لڑائی, مدراس ہائی کورٹ میں دائر ہوئی عرضی
ممبئی، 7 فروری (ہ س)۔ کامیڈی فلموں کی مقبول فرنچائز ’ہیرا پھیری‘ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ اس بار مسئلہ فلم کی کہانی یا کاسٹ نہیں بلکہ فرنچائز کے حقوق کا ہے۔ پروڈکشن کمپنی سیون آرٹس انٹرنیشنل لمیٹڈ نے اس تنازع کے حل کے لیے مدراس ہائی
Hera-Pheri-3-in-trouble-again-new-rights-dispute


ممبئی، 7 فروری (ہ س)۔ کامیڈی فلموں کی مقبول فرنچائز ’ہیرا پھیری‘ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ اس بار مسئلہ فلم کی کہانی یا کاسٹ نہیں بلکہ فرنچائز کے حقوق کا ہے۔ پروڈکشن کمپنی سیون آرٹس انٹرنیشنل لمیٹڈ نے اس تنازع کے حل کے لیے مدراس ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس سے ’ہیرا پھیری 3‘ کے قانونی پہلو مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔اب تک یہ تصور کیا جاتا رہا کہ ’ہیرا پھیری‘ سیریز کے حقوق پروڈیوسر فیروز ناڈیاڈوالا کے پاس ہیں، لیکن سیون آرٹس نے عدالت میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرنچائز کے اصل حقوق ان کے پاس ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ناڈیاڈوالا کے پاس محدود اختیارات تھے، جنہیں انہوں نے مبینہ طور پر تجاوز کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق، فیروز ناڈیاڈوالا کو ملیالم فلم ’رام جی راو اسپیکنگ‘ (1989) کا صرف ایک ہندی ریمیک بنانے کا حق دیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر سال 2000 میں پہلی ’ہیرا پھیری‘ بنائی گئی، جس کی ہدایت کاری پریہ درشن نے کی۔ تاہم سیون آرٹس کا الزام ہے کہ اس کے بعد بننے والی ’پھر ہیرا پھیری‘ (2006) اور مجوزہ ’ہیرا پھیری 3‘ مکمل طور پر غیر مجاز ہیں۔سیون آرٹس انٹرنیشنل کے منیجنگ ڈائریکٹر جی پی وجے کمار کے مطابق انہوں نے 2022 میں اس فرنچائز کے حقوق عادتیہ فلمز سے خریدے تھے، جو ’رام جی راو اسپیکنگ‘ کے اصل پروڈیوسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناڈیاڈوالا کو نہ سیکوئل بنانے کا حق تھا، نہ پریکوئل کا، اور نہ ہی فلم کے کرداروں کے استعمال کی اجازت حاصل تھی۔وجے کمار نے وضاحت کی کہ دوسری فلم کے وقت کاپی رائٹ ہولڈرز کو مکمل معلومات نہ ملنے کے باعث یہ معاملہ سامنے نہیں آ سکا۔ بعد میں جب انہیں علم ہوا کہ حقوق کے بغیر سیکوئل بنایا گیا ہے، تب تک کافی وقت گزر چکا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ خود ہندی میں اگلی فلم بنانے کے لیے اکشے کمار سے بات کر رہے تھے، تب انہیں معلوم ہوا کہ فیروز ناڈیاڈوالا پہلے ہی حقوق اکشے کے پروڈکشن ہاؤس کیپ آف گڈ فلمز کو فروخت کر چکے ہیں۔ اس پر ناڈیاڈوالا کو قانونی نوٹس بھیجا گیا، مگر جواب اطمینان بخش نہ ہونے پر عدالت کا سہارا لیا گیا۔ اب اس تنازع کا حتمی فیصلہ مدراس ہائی کورٹ کرے گی، جس پر پوری فلمی صنعت کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande