وزیراعظم رواں ماہ کے آخر میں اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س) وزیر اعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں اسرائیل کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ نو سالوں میں ان کا دوسرا دورہ ہوگا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جارہاہے۔ حکومت ک
دورہ


نئی دہلی، 23 فروری (ہ س) وزیر اعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں اسرائیل کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ نو سالوں میں ان کا دوسرا دورہ ہوگا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جارہاہے۔

حکومت کے مطابق، وزیر اعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017 تک اسرائیل کا تاریخی دورہ کیا۔ یہ کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا، جس کے دوران دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح پر بلند کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوری 2018 میں ہندوستان کا دورہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے حالیہ برسوں میں باقاعدہ رابطہ رکھا ہے۔ 2023 اور 2026 کے درمیان، دونوں رہنماو¿ں نے علاقائی مسائل، دہشت گردی، مغربی ایشیا کی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مختلف مواقع پر ٹیلی فون پر بات کی۔ گزشتہ جنوری میں دونوں رہنماو¿ں نے نئے سال کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔

دفاعی اور سیکورٹی تعاون ہندوستان اسرائیل تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ نومبر 2025 میں ہندوستانی وزیر دفاع کے اسرائیل کے دورے کے دوران، دفاعی تعاون سے متعلق ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس سے تزویراتی تعاون کو نئی تحریک ملی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزیر خزانہ کے ہندوستان کے دورے کے دوران، ایک دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے (بی آئی اے) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد سرمایہ کاری کا تحفظ اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان اسٹارٹ اپس، مشترکہ تحقیق اور ترقی کے پروجیکٹس، انڈیا-اسرائیل انڈسٹریل ریسرچ اینڈ انوویشن فنڈ (آئی4ایف)، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکورٹی جیسے شعبوں میں مضبوط تعاون ہے۔ دونوں ممالک تکنیکی جدت کو اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں دیرینہ تعاون ہے۔ مختلف ہندوستانی ریاستوں میں 43 منظور شدہ سینٹرز آف ایکسیلنس میں سے 35 مکمل طور پر کام کر رہے ہیں، جو جدید کاشتکاری، آبپاشی اور پانی کے انتظام کی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اپریل 2025 میں اسرائیلی وزیر زراعت کے ہندوستان کے دورے کے دوران، زرعی شعبے میں تعاون کے ایک نظرثانی شدہ معاہدے اور 2024-26 کے لیے مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے تھے۔

اسرائیل میں ہندوستانی نڑاد 41,000 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ نومبر 2023 میں، دونوں ممالک نے ہندوستانی کارکنوں کے لیے محفوظ اور قانونی عارضی روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت اب تک 20,000 سے زیادہ ہندوستانی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔

ہندوستان نے 13 اکتوبر 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اعلان کردہ غزہ میں تنازعات کو ختم کرنے کے لئے جامع منصوبہ کا خیرمقدم کیا اور خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی کوششوں کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ ہندوستان اور اسرائیل آئی2یو2 گروپ (ہندوستان، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ) کے رکن ہیں، جو خوراک کی حفاظت، قابل تجدید توانائی، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک فورم ہے۔

وزیر اعظم مودی کے ممکنہ دورہ اسرائیل کو دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور علاقائی تعاون کے وسیع ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande