دہلی اسمبلی سمیت تین دیگر اسکولوں کو بم اے اڑانے کی دھمکی
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ دارالحکومت میں پیر کو اس وقت کھلبلی مچ گئی جب اسمبلی سمیت دو بڑے تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ایک کے بعد ایک آئی تین کالوں کے بعد پولیس، محکمہ فائر سروس ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کی ٹیمیں جائ
Bomb-threats-to-Delhi-Secretar


نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ دارالحکومت میں پیر کو اس وقت کھلبلی مچ گئی جب اسمبلی سمیت دو بڑے تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ایک کے بعد ایک آئی تین کالوں کے بعد پولیس، محکمہ فائر سروس ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔ گھنٹوں کی چھان بین کے بعد تمام کال فرضی (ہوکس) پائی گئیں۔

محکمہ فائر بریگیڈ کے مطابق صبح 8 بج کر 50 منٹ پر پہلی کال دہلی چھاو¿نی کے آرمی پبلک اسکول میں بم کی اطلاع پر آئی۔ اطلاع ملنے پر فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی فوراً پہنچ گئے۔ احتیاط کے طور پر اسکول کے احاطے کی مکمل تلاشی لی گئی اور سیکورٹی سخت کردی گئی۔ اسی دوران، صبح 9:36 بجے، لودھی روڈ پر واقع ایئر فورس بال بھارتی اسکول میں بم کی اطلاع کے لیے دوسری کال موصول ہوئی۔ اس سے سیکو رٹی اداروں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یہاں بھی پولیس، فائر فائٹر اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دونوں اسکول کیمپس میں کلاس رومز، دفاتر اور اردگرد کے علاقوں کی مکمل تلاشی لی گئی لیکن کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔

پولیس دونوں معاملات کی جانچ میں مصروف تھی کہ دوپہر 12 بجے کے قریب ایک تیسرا پیغام میل کے ذریعہ موصول ہوا جس میں ودھان سبھا میں بم نصب ہونے کی اطلاع ملی۔ یہ دھمکی ودھان سبھا کے اسپیکر وجیندر گپتا کے ای میل پر دی گئی تھی جس میں دہلی ودھان سبھا کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ ودھان سبھا کے احاطے میں سیکورٹی ایجنسیوں کو فوری طور پر چوکنا کردیا گیا۔ ملازمین اور عام لوگوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے احاطے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔ گھنٹوں کی تفتیش کے بعد تینوں مقامات سے کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ پولیس نے تینوں دھمکیوں کوفرضی قرار دیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شرارتی عناصر نے افواہ پھیلائی ہو گی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande