نامسائی اعلامیہ کے بعد آسام-اروناچل بارڈر پر پہلا سرحدی ستون نصب
پکے کیسانگ (اروناچل پردیش)، 23 فروری (ہ س)۔ تاریخی نامسائی اعلامیہ پر دستخط کے بعد، آسام اور اروناچل پردیش کے درمیان پہلا سرحدی ستون ضلع پکے کیسانگ میں نصب کیا گیا ہے۔ اسے دونوں ریاستوں کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار
نامسائی کے اعلان کے بعد آسام-اروناچل بارڈر پر پہلا سرحدی ستون نصب


پکے کیسانگ (اروناچل پردیش)، 23 فروری (ہ س)۔

تاریخی نامسائی اعلامیہ پر دستخط کے بعد، آسام اور اروناچل پردیش کے درمیان پہلا سرحدی ستون ضلع پکے کیسانگ میں نصب کیا گیا ہے۔ اسے دونوں ریاستوں کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمانتا بسوا سرما نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرحدی ستون آسام اور اروناچل پردیش کے درمیان طبعی حد بندی کے عمل کے باقاعدہ آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سرحد کے ارد گرد دہائیوں سے جاری غیر یقینی صورتحال اور وقتاً فوقتاً کشیدگی کو ختم کرنے کی جانب ایک ٹھوس اقدام ہے۔ اس اعلان کا مقصد باہمی رضامندی اور بات چیت کے ذریعے دہائیوں پرانے سرحدی تنازعے کا دیرپا حل نکالنا ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ اس اقدام سے انتظامی وضاحت، باہمی تال میل اور سرحدی علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی۔ اسے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو شمال مشرقی خطہ میں دیرپا امن اور تعاون کو مضبوط کرے گا۔

ہندوستان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande