

من کی بات عوامی جذبات کا احترام کرنے کا سبق دیتی ہے: گورنر پٹیل
گورنر نے ’من کی بات‘ پروگرام کو زیر تربیت پولیس افسران کے ساتھ سنا
بھوپال، 22 فروری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل نے کہا ہے کہ ’من کی بات‘ پروگرام محض ایک ریڈیو نشریات نہیں ہے، بلکہ ملک کے کونے کونے میں ہو رہی مثبت تبدیلیوں اور عوامی شرکت کی زندہ داستان ہے۔
گورنر پٹیل اتوار کو مدھیہ پردیش پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت نوجوان پولیس افسران اور نئے کانسٹیبلوں سے ’من کی بات‘ پروگرام کی نشریات سے قبل خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا عوام سے سیدھا رابطہ ہوتا ہے۔ ’من کی بات‘ سماج کی نبض سمجھنے اور عوامی جذبات کا احترام کرنے کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس پلیٹ فارم سے ناموافق حالات میں بھی سماج کے لیے کچھ انوکھا کرنے والے گمنام ہیروز کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کہانیوں سے ترغیب حاصل کر کے پولیس فورس کے اہلکار اپنی شخصیت کو مزید حساس اور فرض شناس بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے سبھی سے اپیل کی ہے کہ اس پروگرام کو محض ایک رسمی انعقاد نہ سمجھیں، بلکہ اسے باقاعدگی سے سننے کی عادت میں تبدیل کریں۔
گورنر پٹیل نے زیر تربیت اہلکاروں سے کہا کہ تربیت کا یہ وقت آپ کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ یہاں سے سیکھی گئی باتیں اور مودی جی کے خیالات آپ کے کیریئر میں رہنما کا کردار ادا کریں گے۔ تربیت کے دوران آپ قانون کی باریکیاں سیکھتے ہیں۔ ’من کی بات‘ آپ کو عوامی فلاح و بہبود کے جذبے سے سرشار کرتی ہے۔ پولیس کے رویے میں شائستگی اور مستعدی ہونی چاہیے، تاکہ متاثرہ شخص آپ کے پاس آتے وقت خود کو محفوظ محسوس کرے۔ پولیس فورس میں نظم و ضبط کے ساتھ ہمدردی کا ہونا لازمی ہے۔ ’من کی بات‘ ہمیں وہی انسانی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔ وردی محض طاقت کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ سماج کے آخری پائیدان پر کھڑے شخص کی خدمت کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا طرز عمل ایسا ہونا چاہیے جو سماج میں پولیس کے امیج کو ایک ’دوست‘ اور ’محافظ‘ کے طور پر قائم کرے۔ ’من کی بات‘ میں ملک کے الگ الگ حصوں کی کامیابی کی کہانیاں سننے سے پتہ چلتا ہے کہ فرد کی چھوٹی سی کوشش بھی بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔
ضروری ہے کہ خود کو صرف ’ڈیوٹی‘ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ایک ’چینج میکر‘ (تبدیلی لانے والے) کے طور پر سماج میں اپنی پہچان بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’من کی بات‘ میں وزیر اعظم جی صفائی، پانی کے تحفظ اور ڈیجیٹل خواندگی جیسے موضوعات پر جو رہنمائی کرتے ہیں، انہیں اپنے کام کے میدان میں نافذ کریں۔
گورنر پٹیل نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا خطاب سکھاتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مثبتیت کیسے برقرار رکھی جائے۔ جدید دور میں جرائم کی نوعیت بدل رہی ہے، اس لیے ذہنی طور پر چوکنا اور نظریاتی طور پر مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ’من کی بات‘ پروگرام کو سن کر غور و فکر کریں کہ اس میں بتائی گئی کون سی بات آپ اپنی زندگی اور طرز عمل میں اتار سکتے ہیں۔ انہوں نے افسران سے امید ظاہر کی ہے کہ حب الوطنی اور عوامی خدمت کی شاندار روایت کو وہ ایک مضبوط، نظم و ضبط کے حامل اور ہمدرد پولیس فورس کے طور پر نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔
پروگرام کے آغاز میں مدھیہ پردیش پولیس اکیڈمی کے ڈائریکٹر، اسپیشل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس روی کمار گپتا نے پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے گورنر پٹیل کا استقبال کیا۔ انہیں یادگاری نشان بھی پیش کیا گیا۔ اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سنجے کمار اگروال نے اکیڈمی کے ڈھانچے اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کی۔ پولیس کے 44ویں بیچ کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پوجا لکشکار، 45ویں بیچ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ونے کمار اور نئی کانسٹیبل اوسی دلال نے تربیت کے تجربات شیئر کیے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یاسمین زہرا نے شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیوتی امٹھ نے انجام دیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن