دہلی میں ہونے والے فسادات ایک منصوبہ بند عالمی پیٹرن کا حصہ تھے : ماہرین
نئی دہلی، 22 فروری (ہ س)۔ دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے گروپ (جی آئی اے) نے دہلی کے انڈین لاءانسٹی ٹیوٹ میں دہلی فسادات کی چھٹی برسی کے موقع پر ایک غوروخوض کیلئے پروگرام کا اہتمام کیا۔ حصہ لینے والے ماہرین نے 2020 کے دہلی فسادات کو محض مقامی تشدد نہ
دہلی میں ہونے والے فسادات ایک منصوبہ بند عالمی پیٹرن کا حصہ تھے : ماہرین


نئی دہلی، 22 فروری (ہ س)۔ دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے گروپ (جی آئی اے) نے دہلی کے انڈین لاءانسٹی ٹیوٹ میں دہلی فسادات کی چھٹی برسی کے موقع پر ایک غوروخوض کیلئے پروگرام کا اہتمام کیا۔ حصہ لینے والے ماہرین نے 2020 کے دہلی فسادات کو محض مقامی تشدد نہیں بلکہ ایک ’منصوبہ بند‘،معلوماتی جنگ‘ اور ’حکومت کی تبدیلی‘کی عالمی کوشش قرار دیا۔

دہلی کے سابق پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے کہا کہ دہلی کے فسادات ایک وسیع عالمی طرز کا حصہ تھے جہاں فسادات کو حکومت کی تبدیلی کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے فسادات کے دوران پولیس کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں فسادیوں کو ممکنہ سخت پولیس کارروائی کی توقع تھی، جو کہ احتجاج کو مزید بھڑکا سکتی ہے، جیسا کہ بنگلہ دیش اور نیپال میں دیکھا گیا ہے۔

را کے سابق سربراہ سنجیو ترپاٹھی نے’ففتھ جنریشن انفارمیشن وارفیئر‘ کے تصور پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح فسادات کو بیانیہ کی تعمیر، نفسیاتی کارروائیوں اور جدید ہائبرڈ تنازعات میں اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سفیر وینا سیکری نے بنگلہ دیش ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پیشرفت میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بیانیہ کو کون کنٹرول کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادراک کی تعمیر اور بین الاقوامی پیغام کا انتظام سیاسی نتائج کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔جی آئی اے کی کنوینر مونیکا اروڑہ نے کہا کہ دہلی فسادات ایک ’تجربہ‘ تھا جس کا مقصد حکومت کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ انہوں نے اس موضوع پر مسلسل تعلیمی مطالعہ اور عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ممتاز شہری چندر ودھوان نے نام نہاد 'ڈیپ سٹیٹ' کے کردار کا تجزیہ پیش کیا اور اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی جن میں ریٹائرڈ سفیر، اعلیٰ پولیس افسران، وکلاءاور نامور شہریوں نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande