
کولکاتا، 20 فروری (ہ س)۔ مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے بیلڈانگا میں تشدد کی تحقیقات کو لے کر ایک نیا قانونی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے کلکتہ ہائی کورٹ میں کیس ڈائری کو دستیاب نہ کرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک شکایت دائر کی ہے۔
جمعہ کو چیف جسٹس کی سربراہی والی ڈویژن بنچ کو این آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ بیلڈانگا تشدد کیس کی کیس ڈائری ابھی تک ایجنسی کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔ دریں اثنا، ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت کی بنیاد پر سماعت کی درخواست اور نچلی عدالت کے ذریعہ ریکارڈ کی منتقلی کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں ایک نئی عرضی دائر کی ہے۔
چیف جسٹس سوجے پال اور جسٹس چیتالی چٹوپادھیائے داس کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ اس معاملے کی اگلی سماعت منگل کو چیف جسٹس سوجے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی ڈویژن بنچ میں ہو گی۔ اس سے قبل اسی بنچ میں اس معاملے کی سماعت ہو چکی ہے۔
گزشتہ ماہ جھارکھنڈ میں مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر مزدور علاؤالدین شیخ کی موت کی خبر کے بعد بیلڈانگا میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ 16 جنوری کو علاءالدین کی لاش ضلع میں پہنچنے کے بعد عوام کے ایک طبقے نے احتجاج شروع کر دیا۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا تھا کہ دوسری ریاست میں بنگالی مزدور کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں سیالدہ -لال گولا روٹ پر ریل روکو، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور قومی شاہراہ کی ناکہ بندی جیسے واقعات رونما ہوئے ۔حالانکہ، جھارکھنڈ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ علاؤالدین نے خودکشی کی تھی۔
ہائی کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ اگر مرکزی حکومت چاہے تو معاملے کی جانچ این آئی اے سے کروائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے این آئی اے کی تحقیقات کے لیے ہدایات جاری کیں۔
کولکاتا سٹی سیشن کورٹ نے بیلڈانگا تشدد سے متعلق کیس ڈائری کو این آئی اے کو منتقل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ نچلی عدالت نے کیس ڈائری کی منتقلی کے لیے 26 فروری کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔
اس کے باوجود این آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسی کو ابھی تک کیس ڈائری نہیں ملی ہے۔ اب کیس کی سماعت ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ منگل کو کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد