تعلیم کو صرف ذاتی ترقی و بہبود کے لیے بروئے کار نہ لائیں :جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے سالانہ پروگرام میں ڈاکٹر سوکانتا مجمدار کا خطاب
نئی دہلی،10فروری(ہ س)۔ڈاکٹر ایم۔اے۔انصاری آڈیٹوریم میں جامعہ سینیئر سیکنڈری اسکول کے کل منعقدہ سالانہ پروگرام کے موقع پر عزت مآب مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سوکانتا مجمدار نے ویڈیو پیغام میں یونیورسٹی اور اسکول انتظامیہ کو این ای پی دوہزار ب
تعلیم کو صرف ذاتی ترقی و بہبود کے لیے بروئے کار نہ لائیں :جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے سالانہ پروگرام میں ڈاکٹر سوکانتا مجمدار کا خطاب


نئی دہلی،10فروری(ہ س)۔ڈاکٹر ایم۔اے۔انصاری آڈیٹوریم میں جامعہ سینیئر سیکنڈری اسکول کے کل منعقدہ سالانہ پروگرام کے موقع پر عزت مآب مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سوکانتا مجمدار نے ویڈیو پیغام میں یونیورسٹی اور اسکول انتظامیہ کو این ای پی دوہزار بیس کو حقیقی طورپراختیار کرنے کے لیے مبارک باد دی۔انہوں نے کہاکہ ’مجھے یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اقداری تعلیم کی شمولیت،ہندوستانی علوم نظام،ہنرکے فروغ، ڈیجیٹل خواندگی، سائنسی انداز نظر،جدت و اختراعیت، مصنوعی ذہانت سے کے سلسلے میں بیداری اور انٹرپرینورشپ کی شمولیت سے اپنے نصاب کو قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کے مطابق کیا ہے اور طلبہ کو ترقی یافتہ بھارت دوہزار سینتالیس کے وڑن کی طرف ہندوستان کی رہنمائی کے لیے طلبہ کو تیار کررہے ہیں“۔

طلبہ سے اپنے اساتذہ اور والدین کی عزت کرنے کے لیے اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر مجمدار نے کہاکہ ”عزیز طلبہ! ترقی اور کامیابی کو صرف نمبرات اور رینک سے نہیں تولا جاتا بلکہ اخلاق و کردار، ایمان داری اور سماج کی خدمت کے تئیں آپ کی آمادگی سے بھی اسے جانچا جاتاہے۔بڑے خواب دیکھو، خوب محنت کرو، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کرو اور تعلیم کی تحصیل صرف ذاتی کامیابی کے لیے نہ کرو بلکہ اسے قومی تبدیلی کا وسیلہ بیبناو¿۔اساتذہ اور والدین نئے ذہنوں کی صیقل گری میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور اور بچوں کی ہمہ جہت ترقی اور نشو و نما کے لیے ان کی ساجھیداری ناگزیر ہے۔نئی نسل کو سمت دینے میں ان کے مستقل تعاون اور اس کے تئیں ان کے مخلصانہ جذبے کی میں دل سے قدر کرتا ہوں۔“قومی ترقی و بہبود کے لیے نئی نسل کی تربیت کی اہمیت کے سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر مجمدار نے کہاکہ”وکست بھارت دوہزار سینتالیس کے وڑن کے ساتھ ہندوستان مستقبل کے راستے پر گامزن ہے،آج کے طلبہ کل کے رہنما، جدت طراز اور ذمہ دار شہری ہوں گے۔قومی تعلیمی اصلاحات کے توسط سے ایک مضبوط و مستحکم بنیاد ڈالی گئی ہے اور مجھے کامل اعتماد ہے کہ ہمارے نوجوان آموزگار اس ذمہ داری کو بخوبی سر انجام دیں گے۔“

ڈاکٹر مجمدار نے مزید کہا کہ”عزت مآب وزیر اعظم شری نریندر مودی جی کی دوراندیش قیادت میں اسکول ایجوکیشن کو قومی ترقی کے مرکز میں جگہ دی گئی ہے۔قومی تعلیمی پالیسی دو ہزار بیس نے استعداد پرمبنی آموزش،تجرباتی فن تدریس، کثیر لسانی اور ہمہ جہت نشو ونما کے وسیلے سے تعلیم کو نئے انداز میں متصور کیا ہے۔سمگر شکشا،نپن بھارت، پی ایم شری اسکول،دکشا،پی ایم ودیا اور ویدا سمیکشا کیندر جیسے اقدامات ڈھانچے کو مضبوط کررہے ہیں، آموزشی نتائج کو بہتر کررہے ہیں،اساتذہ کو با اختیار بنارہے ہیں اور ٹکنالوجی سے استفادہ کرکے تعلیم کو شمولیتی، خوش کن تجربہ اور مستقبل کے لیے تیار کررہے ہیں۔ قرآن پاک کی روح پرور تلاوت اور جامعہ ترانہ کی پیش کش کے بعد اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد ارشد خان نے سالانہ رپورٹ دوہزار پچیس چھبیس پیش کی اور خطبہ استقبالیہ دیا۔ انہوں نے گزشتہ سال کی اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں اور تعلیمی حصولیابیوں سمیت این ایس ایس سرگرمیوں میں شرکت کے سلسلے میں جس کا افتتاح پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا تھا، ایک مختصر رپورٹ پیش کی۔

اس موقع پر رنگا رنگ تہذیبی و ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے جن میں قوالی اور بنگالی رقص مظاہرے شامل تھے، اس کے بعد تقسیم انعامات تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف زمروں کے تحت ٹاپرز کو اکیڈمک اور غیر اکیڈمک ایواڑانعامات سے سرفراز کیے گئے۔پروگرام کے مہمان اعزازی پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عزت مآب مرکزی وزیر شری مجمدار جی کے پیغام کو دہرایا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لیے ان کے مستقل تعاون کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔پروفیسر رضوی نے آئندہ اسکول بورڈ امتحان دینے والے طلبہ کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کے سلسلے میں انہوں نے اسکول اساتذہ اور اسٹاف کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ان کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر رضوی نے کہاکہ مطالعے کی مختلف جہات میں خوب سے خوب تر کرکے اور قومی سطح کے مقابلوں میں اعلی مقام حاصل کرکے جامعہ اسکول کے طلبہ نے اپنے جونیئر ز کے لیے ایک معیار متعین کردیاہے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیاکہ جامعہ اسکول دہلی کے بہترین اسکولوں سے مقابلہ کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہے اور اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی افضلیت اور ہم نصابی سرگرمیوں دونوں ہی میں نئے معیار متعین کرکے وہ جلد ہی رول ماڈل بن کر ابھریں۔“

پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی صدارتی تقریر میں بلے شاہ کی خوب صورت نظم سنائی۔انہوں نے عزت مآب وزیر کے ویڈیو پیغام کے بیش قیمت الفاظ کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔یہ کہتے ہوئے کہ ابھی اور بہتر ہوگا انہوں نے شان دار تہذیبی و ثقافتی مظاہروں کے لیے اسکول کو مبارک باد دی۔ پروفیسر آصف نے کہاکہ ”جامعہ کے اسکولوں نے اپنے نصاب کو این ای پی دوہزار بیس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سخت کاوش کی ہے،یہ ایسا قدم ہے جو آموز ش کے ابتدائی برسوں میں ہنر اساس اور اقداری تعلیم کی شمولیت سے استحکام پائے گا۔انہوں نے مزید کہ کہاجامعہ انتظامیہ اپنے اسکولوں کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی سمت سرگرمی کے ساتھ مصروف عمل ہے اور بتایا کہ وزارت تعلیم کے عہدیداران کے ساتھ اس سلسلے میں پہلے سے ہی بات چیت جاری ہے۔ طلبہ کی بہتری پر زور دیتے ہوئے پروفیسر آصف نے کہاکہ ’انتظامیہ کی توجہ، اسکول میں محفوظ ماحول تیار کرنے پر ہے جہاں بچوں میں ان کی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ان کی تربیت کی جاسکے۔“اس موقع پر جامعہ سینیئر سیکنڈری اسکول کی سالانہ میگزین ’پیام تعلیم دوہزار چھبیس‘کا اجرا بھی عمل میں آیا۔قابل ذکر ہے کہ یہ میگزین کنٹرولر امتحانات، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر احتشام الحق کی نگرانی میں دفتر کنٹرولر امتحانات کے جامعہ پریس سے شائع ہوئی ہے۔اسکول کی سالانہ تقریب میں یونیورسٹی عہدیداران، کنٹرولر امتحانات، چیف پراکٹر، پروفیسر اسد ملک اور ان کی ٹیم، ڈین،اسٹوڈنٹ ویلفیئر، پروفیسر نیلو فر افضل، مختلف فیکلٹیوں کے ڈین، صدور شعبہ جات،سینٹر کے ڈائریکٹرز، لڑکے اور لڑکیوں کے ہاسٹلز کے پرووسٹ،جامعہ اسکولوں کے پرنسپل، اسکول اساتذہ، فیکلٹی اراکین،یونیورسٹی اسٹاف اور بڑی تعداد میں اسکول کے طلبہ نے شرکت کی۔قومی ترانہ کی نغمہ سرائی پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande