لوک سبھا میں تعطل ختم ، ششی تھرور نے بجٹ پر بحث کے دوران امریکی تجارتی معاہدے اور بے روزگاری پر سوالات اٹھائے۔
نئی دہلی، 10 فروری (ہ س): پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھامیں تعطل کے خاتمے کے بعد، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے لوک سبھا میں مرکزی بجٹ 2026 پر بحث شروع کی۔ بحث کے دوران انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی اور جمود کا شکار ٹیکس محصولات ک
تھرور


نئی دہلی، 10 فروری (ہ س): پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھامیں تعطل کے خاتمے کے بعد، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے لوک سبھا میں مرکزی بجٹ 2026 پر بحث شروع کی۔ بحث کے دوران انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی اور جمود کا شکار ٹیکس محصولات کی وصولی پر تنقید کی۔

کیرالہ کی ترواننت پورم لوک سبھا سیٹ سے منتخب ششی تھرور نے کسانوں کو دی جانے والی پی ایم کسان سمان ندھی (پی ایم کے وائی) کی رقم میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دو ہزار روپے کی مالی امداد بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے وی بی جی رام جی ایکٹ پر بھی سوال اٹھایا، جس نے منریگا کی جگہ لی۔

تھرور نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بدستور بلند ہے۔ اسمارٹ سٹی پلان کے اعلان کے بعد، ڈیڈ لائن کو بار بار بڑھایا گیا، لیکن زمینی سطح پر کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تجارتی فائدہ 45 بلین ڈالر ہے لیکن ہم نے اگلے پانچ سالوں میں 500 بلین ڈالر کی امریکی اشیا خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ خریداری کا یہ طے شدہ معاہدہ ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے اور طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور خارجہ کے وزراءکو معاہدے کی ٹائم لائن اور دیگر امور سے متعلق سوالات کے جوابات فراہم کرنے چاہئیں۔ غالب کے ایک مشہور مصرعے کا حوالہ دیتے ہوئے تھرور نے کہا کہ ہم جنت کی حقیقت جانتے ہیں، لیکن اپنے آپ کو بہلانے کے لیے غالب کا خیال اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان محض نعروں سے نہیں بلکہ اسکیموں کو آخری شخص تک پہنچانے سے تعمیر ہوگا۔ یہ ہمارا فرض ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande