
نئی دہلی، 08 نومبر (ہ س)۔
روایت اور جدیدیت کے منفرد امتزاج کے طور پر ملک بھر کے تاجروں نے اتوار کو روشنیوں کا تہوار دیوالی اپنے روایتی کھاتوں کے ساتھ آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، موبائل فون، چیک بک اور روزمرہ کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے دیگر ڈیجیٹل آلات کی پوجا کرکے منایا۔
ملک کی سرکردہ تجارتی تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (کیٹ) کی اپیل پر چاندنی چوک کے رکن پارلیمنٹ اور کیٹ کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال کی رہائش گاہ پر دیوالی پوجا کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس میں دارالحکومت نئی دہلی کے کئی اہم تاجر رہنماو¿ں اور مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
معروف آچاریہ پنڈت پرمود شاستری نے روایتی منتروں کے جاپ اور مکمل ویدک رسم و رواج کے مطابق دیوالی کی پوجا انجام دی۔ پوجا کے مقام کو پھولوں اور گلاب کی پتیوں سے سجایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی خوشحالی اور روحانی روشنی کی علامت کے طور پر سرسوں کے تیل کے مٹی کے دیے روشن کیے گئے۔
ایک بڑے خاکے میں ایک روایتی ہندوستانی تاجر (لالہ) کو ہاتھ میں کمپیوٹر لیے دکھایا گیا تھا، جو ہندوستانی تجارت کی بدلتی ہوئی شکل کی علامت بن گیا۔ بھگوان شری گنیش اور ماں مہالکشمی کی مورتیوں کا دودھ، دہی، شہد، گھی اور شکر سے تیار کردہ پنچامرت سے ابھیشیک بھی کیا گیا۔
اس موقع پر پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ دیوالی ہندوستانی تہذیب، عقیدے، روایات اور معاشی خوشحالی کا ایک شاندار امتزاج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نہ صرف سناتن دھرم کا ایک اہم تہوار ہے بلکہ ہندوستان کا سب سے بڑا معاشی جشن بھی ہے۔
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ روایتی کھاتوں کے ساتھ آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور موبائل فون کی پوجا اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستانی تاجر اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنا رہے ہیں۔ یہی نئے ہندوستان کا تصور ہے، جہاں روایت اور ٹیکنالوجی ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال دیوالی کے تجارتی موسم میں ہندوستانی مصنوعات کی زبردست مانگ دیکھنے کو ملی۔ خوردہ تجارت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حوالے سے عالمی ریٹیل کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر روایتی ہندوستانی تجارت کے تحفظ کے عزم کی علامت کے طور پر تاجروں نے بحرانوں سے نجات دلانے والے بھگوان ہنومان جی کی بھی پوجا کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے اس روایت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
کھنڈیلوال نے کہا کہ ’وکل فار لوکل‘ اب محض ایک نعرہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی معاشی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ہندوستان میں تیار ہونے والی ہر مصنوعات کی خریداری ملک کی گھریلو صنعت کو مضبوط کرتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور ہمارے کاریگروں و کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مصنوعات کا انتخاب کرکے ملک کے شہری دراصل ہندوستان کے معاشی مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ