
- ہفتہ وار گلوبل مارکیٹ کا جائزہ
نئی دہلی، 8 نومبر(ہ س)۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج
اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئروں میں زبردست گراوٹ کے باعث اس ہفتے دنیا بھر کی
اہم مارکیٹوں میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔ امریکی مارکیٹ (وال اسٹریٹ) میں
کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کا کنٹرول آنے کے بعد سیاسی
غیر یقینی کی صورت حال تو کم ہوئی، لیکن مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سخت ضابطے
نافذ ہونے کے خدشے نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ اس کے نتیجے میں چِپ
اور سیمی کنڈکٹر بنانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئروں میں گزشتہ 19 ماہ کی
سب سے بڑی فروخت دیکھی گئی۔
اس فروخت کے دباؤ کے باعث ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج ہفتہ وار
بنیاد پر 3.44 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 51,277.11 پوائنٹس پر، ایس اینڈ پی 500
انڈیکس 4.36 فیصد کی کمی کے ساتھ 7,376.92 پوائنٹس پر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے
شیئروں پر مشتمل نیسڈیک کمپوزٹ 5.52 فیصد کی زبردست گراوٹ کے ساتھ 24,579.43
پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
امریکی مارکیٹ میں اس بھاری گراوٹ کے درمیان یورپی مارکیٹوں میں
بھی پورے ہفتے سست روی کا ماحول رہا۔ جرمنی کا ڈیکس انڈیکس 1.92 فیصد کی کمی کے
ساتھ 25,820.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای انڈیکس بھی
108.72 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 10,673.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔ وہیں فرانس کا سی اے
سی انڈیکس ناموافق حالات سے نکلنے میں کامیاب رہا اور 0.81 فیصد کے معمولی ہفتہ
وار اضافے کے ساتھ 8,139 پوائنٹس پر بند ہوا۔ غیر ملکی مارکیٹوں کی اس افراتفری نے
سرمایہ کاروں کو خطرے والے اثاثوں سے دور رہنے پر مجبور کیا، جس کا اثر ایشیائی
مارکیٹوں پر بھی نظر آیا۔
گلوبل مارکیٹ سے ملے جلے اشاروں کے درمیان ایشیائی شیئر بازاروں
میں بھی اس ہفتے زبردست اتار چڑھاؤ اور شیئروں کی فروخت کا دباؤ حاوی رہا۔ جاپان
کا نِکیئی 225 انڈیکس ٹیکنالوجی شیئروں میں گراوٹ کے باعث 3,643.13 پوائنٹس یعنی
5.96 فیصد کی بھاری ہفتہ وار کمی کے ساتھ 57,434.77 پوائنٹس کی سطح پر آگیا، جبکہ
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی ہر طرف سے فروخت کے دباؤ کے باعث 5.68 فیصد کی
بڑی گراوٹ کے ساتھ 5,059.69 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح تائیوان ویٹڈ انڈیکس
منافع وصولی کے شدید دباؤ میں 4.72 فیصد گر کر 39,701.64 پوائنٹس اور انڈونیشیا کا
جکارتہ کمپوزٹ انڈیکس بھی 1.93 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 5,050.43 پوائنٹس پر آگیا۔
اس کے علاوہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 1.14 فیصد کی کمی کے
ساتھ 3,649.18 پوائنٹس، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.27 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ
24,481.86 پوائنٹس اور تھائی لینڈ کا سیٹ کمپوزٹ انڈیکس 1.13 فیصد کی کمی کے ساتھ
1,465.70 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ سنگاپور کا اسٹریٹس ٹائمز انڈیکس 2.21 فیصد کی
کمی کے ساتھ 5,179.17 پوائنٹس پر رہا۔
ایشیا کی تقریباً تمام اہم مارکیٹوں سے منفی اشاروں کے درمیان
صرف گفٹ نفٹی ہی مستثنیٰ رہا، جو ہندوستانی مارکیٹ کے لیے ابتدائی اشارے فراہم
کرتا ہے۔ امریکی بانڈ کی آمدنی میں کمی اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی
بھاری خریداری کے باعث گفٹ نفٹی 0.19 فیصد کی مضبوطی کے ساتھ 25,038.50 پوائنٹس پر
بند ہوا۔ گفٹ نفٹی کی یہ تیزی پیر کو گھریلو مارکیٹ کے کاروبار کے آغاز کے لیے
مضبوط اور مثبت سہارا ثابت ہوسکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن