گیند سے چھیڑ چھاڑ تنازعہ پر عثمان خواجہ کا بڑا انکشاف، پوری آسٹریلیائی ٹیم ملوث تھی
۔ سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے کہا، کچھ باتوں کو ان کہی ہی رہنے دینا چاہیے میلبورن، 7 نومبر (ہ س)۔ آسٹریلیا کے سابق سلامی بلے باز عثمان خواجہ نے 2018 کے مشہور گیند سے چھیڑ چھاڑ تنازعہ کے حوالے سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے
گیند سے چھیڑ چھاڑ تنازعہ پر عثمان خواجہ کا بڑا انکشاف، پوری آسٹریلیائی ٹیم ملوث تھی


۔ سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے کہا، کچھ باتوں کو ان کہی ہی رہنے دینا چاہیے

میلبورن، 7 نومبر (ہ س)۔ آسٹریلیا کے سابق سلامی بلے باز عثمان خواجہ نے 2018 کے مشہور گیند سے چھیڑ چھاڑ تنازعہ کے حوالے سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران پیش آنے والے اس واقعے میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم، کھلاڑیوں اور معاون عملے سمیت ملوث تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری صرف اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ پر ڈالنا درست نہیں تھا، کیونکہ ٹیم کے تمام افراد کو اس معاملے کی جانکاری تھی۔ وہیں آسٹریلیا کے سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے خواجہ کے اس انکشاف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل اور اس سے وابستہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کچھ باتوں کو ان کہی ہی رہنے دینا چاہیے۔

خواجہ نے یہ بیان اپنی خودنوشت سوانح عمری ’صبر‘ کی رونمائی سے پہلے دیا ہے۔ انہوں نے ’نائن‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، ’’اس میں ہم سب شامل تھے۔ صرف بلے باز ہی نہیں، گیند باز بھی نہیں بلکہ معاون عملے سمیت ہم سب اس میں شامل تھے۔ مثالی صورتحال میں، میں سامنے آکر سچائی بتانا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے واقعی لگتا تھا کہ آٹھ سال بعد تک سچائی سامنے آچکی ہوگی۔ شاید مجھے امید تھی کہ ڈیوڈ وارنر یا کوئی اور اس بارے میں کھل کر بات کرے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شروع سے ہی میرا ماننا رہا ہے کہ اس کی اجتماعی ذمہ داری قبول کی جانی چاہیے۔‘‘

خواجہ نے کہا کہ واقعے کے بعد انہوں نے ڈریسنگ روم میں آسٹریلیائی کھلاڑیوں سے پوری ٹیم کے طور پر ذمہ داری قبول کرنے کی بات بھی کہی تھی۔ ان کے مطابق، سبھی کو معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اسی لیے ذمہ داری بھی سب کو مل کر لینی چاہیے تھی۔ تاہم، ایسا نہیں ہوا اور صرف تین کھلاڑیوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

انہوں نے کہا، ’’میں نے ان سے کہا تھا کہ اسے ٹیم کے طور پر قبول کرو۔ ہم نے یہ سب ایک ٹیم کی حیثیت سے کیا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور ہمیں اس کی ذمہ داری بھی ٹیم کے طور پر لینی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور ان تینوں کھلاڑیوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے گزشتہ آٹھ برسوں میں ڈیوڈ وارنر کو بار بار تنقید کا نشانہ بنتے دیکھا ہے۔ اتنے طویل عرصے تک خاموش رہنا اور کچھ نہ کہنا آسان نہیں تھا۔‘‘

خواجہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرکٹ آسٹریلیا نے 2018 کے معاملے کی جانچ کے دوران ان کا انٹرویو تک نہیں لیا تھا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے بعد اس وقت کے چیف انٹیگریٹی آفیسر ایان رائے اور ٹیم پرفارمنس منیجر پیٹ ہاورڈ کی قیادت میں جانچ کی گئی تھی۔ اسی جانچ کے بعد اسمتھ، وارنر اور بینکرافٹ پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

خواجہ نے کہا، ’’میں اس پورے ٹیسٹ میچ کے دوران کیمرون بینکرافٹ کے برابر میں بیٹھا تھا، لیکن میرا انٹرویو نہیں لیا گیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں اسے پوری ٹیم کی ذمہ داری مانتا ہوں اور اگر میرا انٹرویو لیا جاتا تو میں سچ بتانے کے لیے تیار تھا۔‘‘

لیہمن نے کہا، کچھ باتوں کو ان کہی ہی رہنے دیں

خواجہ کے انکشاف پر آسٹریلیا کے سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کھیل اور اس سے وابستہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کچھ باتوں کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔ مارچ 2018 میں کیپ ٹاؤن میں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران گیند سے چھیڑ چھاڑ کا واقعہ سامنے آنے کے بعد عہدہ چھوڑنے والے لیہمن نے ہفتہ کے روز اے بی سی گرینڈ اسٹینڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کی یادیں آج بھی تکلیف دہ ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’آج صبح کافی کچھ ہوا ہے، ہے نا؟ اس سے بہت بری یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔ یہ آسٹریلیائی کرکٹ کا ایک برا دن تھا۔ دنیا بھر میں ایسا ہو رہا تھا، جیسا کہ کئی لوگ پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ لیکن کس شخص کو کتنی جانکاری تھی، یہ ہر فرد کے معاملے میں الگ الگ ہوسکتا ہے۔ اس وقت اس سے وابستہ کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مجھے دکھ ہے، کیونکہ یہ انہیں دوبارہ اسی برے دور میں لے جا رہا ہے۔ موسم گرما کے آغاز میں اس طرح کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔‘‘

لیہمن نے کہا کہ آٹھ سال پرانے واقعے کے بارے میں کچھ باتیں لوگوں کو یاد ہوں گی اور کچھ یاد نہیں ہوں گی۔ انہوں نے خواجہ کی خودنوشت کی رونمائی سے ٹھیک پہلے بیان دینے کے وقت پر بھی سوال اٹھائے۔

انہوں نے کہا، ’’کیا خواجہ یہ بات آٹھ سال پہلے بھی کہہ سکتے تھے؟ شاید یہ ان کی کتاب کا ہی ایک حصہ ہے۔ کتابیں فروخت ہونے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اب کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سچ کہوں تو میں نے عثمان سے بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے نہ مجھے فون کیا اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجا۔‘‘

لیہمن نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انہیں بھی پس پردہ کافی مدد لینی پڑی تھی اور اس تنازع پر دوبارہ بحث سے پرانی مشکلات تازہ ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ سب آپ کو دوبارہ برے دور میں لے جاتا ہے۔ امید ہے کہ میں اس سے باہر نکل پاؤں گا۔ شاید کتاب فروخت کرنے کا یہ بھی ایک حصہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اس کے لیے کتنے پیسے مل رہے ہیں۔ شاید کافی پیسے مل رہے ہوں گے۔ کبھی کبھی کھیل اور اس سے وابستہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کچھ باتوں کو ان کہی ہی چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘

لیہمن نے کہا کہ اب تیز گیند بازوں مچل اسٹارک، کپتان پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ کے ساتھ اسپنر نیتھن لائن کو خواجہ کے انکشاف پر اپنی بات رکھنی چاہیے۔ اس بیان کے بعد ان گیند بازوں کو لے کر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان کھلاڑیوں نے 2021 میں مشترکہ بیان جاری کرکے کہا تھا کہ انہیں میدان پر گیند کی حالت تبدیل کرنے کے لیے کسی بیرونی مادے کے استعمال کی جانکاری نہیں تھی۔

قابل ذکر ہے کہ 2018 میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر پر بین الاقوامی اور گھریلو کرکٹ سے 12، 12 ماہ کی پابندی عائد کی تھی، جبکہ کیمرون بینکرافٹ کو نو ماہ کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ اس وقت تک کرکٹ آسٹریلیا کی جانچ میں صرف انہی تین کھلاڑیوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ خواجہ کے تازہ بیان نے آٹھ سال پرانے اس تنازع کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande