کرناٹک ای20 تنازعہ: مرکز نے پٹرول میں ایتھنول کی مقررہ حد سے زیادہ ملاوٹ کے دعوے کوکیامسترد، جانچ کے طریقہ کار پر اٹھائے سوالات
نئی دہلی، 7 نومبر (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے کرناٹک کے بعض پٹرول پمپوں پر پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملائے جانے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ مرکز نے ریاستی حکومت کی جانب سے نمونے جمع کرنے اور ان کی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ وز
کرناٹک ای20 تنازعہ: مرکز نے پٹرول میں ایتھنول کی مقررہ حد سے زیادہ ملاوٹ کے دعوے کوکیامسترد، جانچ کے طریقہ کار پر اٹھائے سوالات


نئی دہلی، 7 نومبر (ہ س)۔

مرکزی حکومت نے کرناٹک کے بعض پٹرول پمپوں پر پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملائے جانے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ مرکز نے ریاستی حکومت کی جانب سے نمونے جمع کرنے اور ان کی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ ملک گیر سطح پر ایندھن کے معیار کی نگرانی کے تحت کرناٹک میں جانچ کیے گئے تمام 56 نمونے مقررہ ای-20 معیار پر پورے اترے ہیں۔

وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے مطابق ملک کی 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پٹرول پمپوں سے جمع کیے گئے ای-20 پٹرول کے مجموعی طور پر 893 نمونے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے آئی ایس 17021 معیار کے مطابق پائے گئے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ کرناٹک حکومت کے محکمہ خوراک و رسد اور امور صارفین اور قانونی پیمائش کے جاری کردہ بیان کا نوٹس لیا گیا ہے۔ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاست کے بعض پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے پٹرول میں 26 سے 31 فیصد تک ایتھنول موجود ہے۔

اس معاملے پر سرکاری شعبے کی تین بڑی تیل کمپنیوں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل)، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) نے وضاحت کی ہے کہ یہ دعوے مقررہ قانونی اور تکنیکی طریقہ کار کے مطابق کی گئی جانچ کے نتائج سے مطابقت نہیں رکھتے۔

وزارت کے مطابق کرناٹک سمیت پورے ملک میں ان تینوں کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ای-20 پٹرول بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے ایتھنول ملے موٹر گیسولین سے متعلق آئی ایس 17021 معیار کے مطابق ہے۔ کمپنیوں نے اکتوبر 2026 میں نمونے جمع کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار اور جانچ کے عمل پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ ضروری اشیا ایکٹ 1955 کے تحت جاری کردہ 'موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (رسد، تقسیم کے ضابطے اور بدعنوانی کی روک تھام) آرڈر 2005 اور مارکیٹنگ ڈسپلن گائیڈ لائنز (ایم ڈی جی) 2024 میں نمونے جمع کرنے، انہیں محفوظ رکھنے، جانچ کرنے اور نتائج کی اطلاع دینے کے لیے واضح طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔

وزارت کے مطابق تیل کمپنیوں کی ابتدائی تکنیکی جانچ میں جانچ کے سرٹیفکیٹس میں درج ایتھنول کی مقدار معلوم کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

آئی ایس 17021:2018 کے تحت، جس میں اگست 2025 میں تیسری ترمیم کی گئی تھی، ای-20 ایندھن میں ایتھنول کی مقدار معلوم کرنے کے لیے مخصوص تکنیکی طریقوں کا استعمال ضروری ہے۔ان طریقوں میں اے ایس ٹی ایم ڈی 5845 کے تحت’فورئیر ٹرانسفارم انفرا ریڈ اسپیکٹروسکوپی‘(ایف ٹی آئی آر)، اینیکس سی کے تحت 'واٹر ایکسٹریکشن' اور اے ایس ٹی ایم ڈی 4815 یا ڈی 6839 کے تحت 'گیس کرومیٹوگرافی' شامل ہیں۔وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کے تحت کام کرنے والا ’سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی‘ (سی ایچ ٹی) تیل کمپنیوں کے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ایتھنول کی ملاوٹ اور ایندھن کے معیار کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

او ایم سی اور سی ایچ ٹی کے کوالٹی کوآرڈینیشن سیل (کیو سی سی) کی جانب سے کی گئی جانچ کے تحت 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ای-20 پٹرول کے مجموعی طور پر 893 نمونے جمع کیے گئے۔ان میں انڈین آئل کارپوریشن کے 330، بھارت پٹرولیم کے 280 اور ہندوستان پٹرولیم کے 283 نمونے شامل تھے۔ یہ نمونے کمپنیوں کے ڈپوز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس سے حاصل کیے گئے تھے۔ان تمام نمونوں کی جانچ ریفائنریوں اور تیل کمپنیوں کی کوالٹی کنٹرول لیبارٹریوں میں آئی ایس 17021 کے اینیکس سی کے مطابق کی گئی۔ جانچ میں تمام 893 نمونوں کے اندر ایتھنول کی مقدار 19 سے 21 فیصد کی مقررہ حد کے اندر پائی گئی۔

وزارت نے وضاحت کی کہ تیل کمپنیوں کی ریفائنریوں اور ڈپوز میں ایتھنول کی ملاوٹ جدید، معیاری اور کنٹرول شدہ نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس عمل میں ریفائنری اور ڈپو کی سطح پر خودکار کیلیبریشن اور تناسب طے کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔ ایتھنول کی ملاوٹ مقررہ معیار اور کوالٹی کنٹرول کے ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے۔

وزارت کے مطابق پٹرول میں ایتھنول ملانے کا عمل نہ تو دستی طور پر ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں من مانی کی کوئی گنجائش ہے۔وزارت نے صارفین کو سالانہ تقریباً 62 ہزار کروڑ روپے کے مائلیج نقصان اور گاڑیوں کی مرمت پر تقریباً 39 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ اس طرح مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 1.01 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی جانچ مستند تکنیکی شواہد کی بنیاد پر احتیاط کے ساتھ کی جانی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تین برس سے زیادہ عرصے کے دوران 30 کروڑ سے زائد دو پہیہ اور چار کروڑ سے زیادہ چار پہیہ گاڑیاں ای-20 ایندھن استعمال کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں روزانہ چھ کروڑ سے زیادہ افراد اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھروانے کے لیے پٹرول پمپوں کا رخ کرتے ہیں۔وزارت کے مطابق اگر ای-20 پٹرول کے معیار میں کوئی بڑی خرابی ہوتی تو اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے خراب ہونے کے واقعات سامنے آتے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande