ناریل کی کھیتی کرنے والے کسان کی بیٹی برڈنی نے رقم کی تاریخ، سائیکلنگ میں قومی ریکارڈ کے ساتھ جیتا سونے کا تمغہ
کولکاتا، 6 نومبر (ہ س)۔ انڈمان و نکوبار جزائر کے کار نکوبار کی 16 سالہ آئی ایس برڈنی نے محدود وسائل اور جغرافیائی مشکلات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سائیکلنگ میں قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کی ادارہ جاتی مدد، کوچ کی
Sports-Cycling-Bridney-National-Record-Gold


کولکاتا، 6 نومبر (ہ س)۔ انڈمان و نکوبار جزائر کے کار نکوبار کی 16 سالہ آئی ایس برڈنی نے محدود وسائل اور جغرافیائی مشکلات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سائیکلنگ میں قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کی ادارہ جاتی مدد، کوچ کی رہنمائی اور اہل خانہ کی قربانیوں کی بدولت برڈنی نے حال ہی میں رانچی میں منعقدہ قومی ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتنے کے ساتھ قومی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔

جھارکھنڈ کے رانچی واقع کھیل گاؤں میں 3 نومبر کو منعقدہ 78ویں سینئر، 55ویں جونیئر اور 41ویں سب جونیئر قومی ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ میں برڈنی نے سب جونیئر گرلز 500 میٹر انفرادی ٹائم ٹرائل مقابلے میں 37.479 سیکنڈ کا وقت نکالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ترشا پال کا 38.700 سیکنڈ کا سابقہ قومی ریکارڈ توڑ دیا۔ ترشا ایشین کپ اور ایشین ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ میں تمغے جیت چکی ہیں۔

جس کھلاڑی نے اپنے کھیل کریئر کی ابتدا سائیکلنگ ویلڈروم اور قومی سطح کے مقابلوں جیسی سہولتوں کے بغیر کی ، اس کے لیے سونے کا تمغہ جیتنے کے ساتھ قومی ریکارڈ قائم کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی برسوں کی محنت، نظم و ضبط اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔

برڈنی نے سائی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ”کار نکوبار میں سائی کے مرکز پر کوچ وشوجیت بال کرشن سوتار کی رہنمائی میں تربیت کے دوران میری فٹنس اچھی تھی۔ مجھے اچھی کارکردگی کی امید ضرور تھی، لیکن میں نے کبھی قومی ریکارڈ بنانے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں نے صرف اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کی۔“

کسان خاندان کی بیٹی نے دیکھا بڑا خواب

برڈنی کار نکوبار کے کن یوکا گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ ان کا خاندان معمولی معاشی پس منظر رکھتا ہے۔ ان کی والدہ جونیا گھریلو خاتون ہیں، جب کہ والد رودھر ناریل کی کاشت اور خشک ناریل کی گری فروخت کرکے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ روایتی کھیتی اور محدود آمدنی پر منحصر اس خاندان کے لیے بیٹی کے کھیل کے سفر کو آگے بڑھانا آسان نہیں تھا۔ اس کے باوجود والدین نے ان کے خواب کو پورا کرنے میں بھرپور ساتھ دیا۔

ابتدا میں برڈنی کی دلچسپی فٹ بال اور 100 میٹر کی دوڑ میں تھی۔ نومبر 2022 میں انتخابی ٹرائل کے دوران انہوں نے سائیکلنگ میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ کوچ سوتار نے ان کی صلاحیت کو پہچانا اور انہیں اس کھیل سے جڑنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد 2023 میں انہیں کار نکوبار واقع سائی کے تربیتی مرکز میں شامل کیا گیا، جہاں انہوں نے ابتدائی تربیت حاصل کی اور سائیکلنگ کی مہارت کو نکھارا۔

کوچ نے وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا

برڈنی کا سفر آسان نہیں تھا۔ کار نکوبار کے سائی تربیتی مرکز میں سائیکلنگ ویلڈروم اور قومی سطح کے مقابلوں کی تیاری کے لیے درکار تمام ضروری آلات دستیاب نہیں تھے۔ برڈنی کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے کوچ سوتار نے ان کمیوں کو دور کرنے کے لیے ذاتی طور پر پہل کی۔

انہوں نے اپنے سابق تربیت یافتہ کھلاڑیوں کی مدد سے ترواننت پورم اور مہاراشٹر کے کولہاپور سے اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں استعمال ہونے والے آلات کا انتظام کیا۔ اس طرح مقامی سطح پر سہولتوں کی کمی برڈنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔

برڈنی نے 25-2024 میں چنئی میں منعقدہ قومی ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ رانچی میں اسکولوں کی قومی سطح کی چیمپئن شپ کے ٹیم اسپرنٹ مقابلے میں بھی انہوں نے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کامیابیوں سے ان کی صلاحیت پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔

کوچ سوتار کا تعاون صرف تربیت تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے صلاحیت کی شناخت، ضروری آلات کے انتظام اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باوجود مسائل کا حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے دور دراز جزیرے میں تربیت حاصل کرنے والی برڈنی کو قومی سطح پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔

سائی کے کولکاتا مرکز نے تربیتی نظام کو مضبوط بنایا

کار نکوبار کے تربیتی مرکز میں موجود مشکلات کو دیکھتے ہوئے سائی کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس (این سی او ای)، کولکاتا نے برڈنی کی تیاری کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مالی، انتظامی اور تکنیکی مدد کے ذریعے ضروری آلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی دور کرنے میں تعاون کیا گیا۔

ترواننت پورم اور رانچی میں منعقدہ تربیتی کیمپوں، غذائیت سے متعلق بیداری کے سیشنوں اور کوچوں کی تکنیکی رہنمائی نے ان کی تیاری کو زیادہ منظم بنایا۔ اس تعاون سے دور دراز علاقوں میں موجود صلاحیتوں کو بہتر وسائل اور مواقع سے جوڑنے کی راہ ہموار ہوئی۔ زمینی سطح پر کام کرنے والے کوچوں کی کوششوں کو ادارہ جاتی تعاون ملنے سے برڈنی کو اپنی صلاحیت نکھارنے کا موقع حاصل ہوا۔

مسلسل بہتر کارکردگی کا ملا نتیجہ

برڈنی کی یہ کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی۔ 26-2025 کے سیزن میں انہوں نے رودرپور میں منعقدہ قومی ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ کے انڈر 16 اور سب جونیئر گرلز مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس مقابلے میں مہاراشٹر کی آ بھا سومن سمیت ملک کی کئی مضبوط کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے اسکولوں کی قومی سطح کی چیمپئن شپ میں بھی چاندی کے تمغے حاصل کیے تھے۔

رانچی میں برڈنی نے اپنی کارکردگی کو ایک قدم آگے بڑھایا۔ انہوں نے منی پور کی فلورنس دیوی، مہاراشٹر کی گایتری تامبے کر اور راجستھان کی دیکشا جیسی اہم حریف کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔

تقریباً تین ماہ قبل برڈنی کا انتخاب سائی کی نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس اسکیم کے تحت نئی دہلی کے اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں ہوا تھا۔ وہ فی الحال وہاں غیر ملکی کوچ مارک پیکر کی رہنمائی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ یہاں انہیں خصوصی تربیت اور اعلیٰ سطح کے مقابلوں کی تیاری کا موقع مل رہا ہے۔ برڈنی کا ہدف بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنا اور ایشیائی کھیلوں میں تمغہ جیتنا ہے۔

کوچ کو اعتماد، ایک دن عالمی چیمپئن شپ میں تمغہ جیتیں گی

برڈنی اپنی کامیابی کا سہرا کوچ سوتار کو دیتی ہیں، جنہوں نے انہیں سائیکلنگ سے متعارف کرایا اور ابتدائی دور میں مسلسل ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا، ”اگر میرے کوچ سوتار نے مجھے سائیکلنگ سے نہ جوڑا ہوتا تو میں اس مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ انہوں نے مجھے جو پہلا موقع دیا، اس کے بغیر میرا یہ سفر ممکن نہیں تھا۔ اب تک میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے، اس میں ان کا بہت بڑا تعاون ہے۔“

برڈنی کے مستقبل کے امکانات کے بارے میں کوچ سوتار نے بھی اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے سائی میڈیا سے کہا، ”میرے ذاتی جائزے کے مطابق برڈنی میں بے پناہ صلاحیت، عزم اور قابلیت موجود ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مناسب تربیت، سہولتیں اور مسلسل تعاون ملنے پر وہ ایک دن عالمی چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے کے قابل ہوں گی۔“

کنیوکا گاؤں کے ناریل کے کھیتوں سے رانچی میں قومی ریکارڈ تک پہنچنے والی برڈنی کی کہانی بتاتی ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں سے بھی بڑے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کی اس کامیابی کے پیچھے خاندان کا اعتماد، کوچ کی لگن اور ادارہ جاتی تعاون کا اہم کردار رہا ہے۔ برڈنی کا یہ سفر صرف 500 میٹر کی تیز رفتار سائیکلنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط ارادے، لگن کے ساتھ تربیت اور کھیلوں کا مناسب نظام ہو تو ایک چھوٹے سے جزیرے کی بیٹی بھی ملک کے لیے بڑے خواب دیکھ سکتی ہے۔

اب برڈنی کی نظریں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے لیے تمغہ جیتنے پر مرکوز ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande