امریکی انتخابات سمیت پانچ عوامل نے گھریلو شیئر بازار میں زبردست تیزی پیدا کر دی
نئی دہلی، 5 نومبر (ہ س)۔ گھریلو شیئر بازار میں آج مسلسل چھٹے کاروباری دن زبردست تیزی کا ماحول برقرار رہا۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس آج کاروبار کے دوران 2100 پوائنٹس سے بھی زیادہ اچھل گیا، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی طویل عرصے بعد اخ
امریکی انتخابات سمیت پانچ عوامل نے گھریلو شیئر بازار میں زبردست تیزی پیدا کر دی


نئی دہلی، 5 نومبر (ہ س)۔ گھریلو شیئر بازار میں آج مسلسل چھٹے کاروباری دن زبردست تیزی کا ماحول برقرار رہا۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس آج کاروبار کے دوران 2100 پوائنٹس سے بھی زیادہ اچھل گیا، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی طویل عرصے بعد اختتامی بنیاد پر 24,500 کی اہم نفسیاتی سطح کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ نفٹی نے اختتامی کاروبار کی بنیاد پر تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ اس بڑی سطح کو چھوا ہے۔

بازار میں آئی اس زبردست تیزی کے باعث بڑی کمپنیوں کے منتخب شیئرس میں خریداری کے ساتھ ساتھ وسیع تر شیئر بازار میں بھی جوش و خروش کا ماحول بنا رہا۔ اس کے نتیجے میں درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے شیئرس کے اشاریے بھی اچھی مضبوطی کے ساتھ بند ہوئے۔ دھن تیرس کے تہوار سے ٹھیک ایک دن پہلے آئی اس شاندار تیزی کی بدولت صرف ایک ہی دن میں سرمایہ کاروں کی دولت میں سات لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا۔

تاہم، اس تاریخی اچھال کے درمیان بازار میں آنے والے ممکنہ اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا اشاریہ انڈیا وی آئی ایکس بھی ڈھائی فیصد بڑھ کر 15.57 کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو مختصر مدت میں بازار میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کے خدشے کی نشاندہی کرتا ہے۔

بازار کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ملکی شیئر بازار میں آج آنے والی اس زبردست تیزی کے پیچھے بنیادی طور پر پانچ بڑے عالمی اور ملکی عوامل کارفرما رہے۔

اس تیزی کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج ہیں، جہاں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی نے وہاں کی پارلیمنٹ (کانگریس) کے دونوں ایوانوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ میں حزب اختلاف کی اس شاندار جیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کی سیاسی طاقت کمزور ہو جائے گی، جس کے باعث ان کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کو مزید آگے بڑھانا یا کوئی بڑا فوجی قدم اٹھانا کافی مشکل ہو جائے گا۔ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کم ہونے کی اس امید نے امریکہ سے لے کر ہندوستان تک کے سرمایہ کاروں میں زبردست جوش پیدا کر دیا۔ اسی جوش کے نتیجے میں آج شیئر بازار میں شاندار تیزی دیکھنے کو ملی۔

بازار میں اس زبردست اچھال کی دوسری بڑی اور اہم وجہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی تاریخی گراوٹ ہے۔ امریکہ میں اقتدار کے توازن میں اس بڑی تبدیلی کے بعد رات کے کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد تک کی بھاری گراوٹ دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت پہلے 100 ڈالر فی بیرل اور پھر 95 ڈالر سے بھی نیچے آ گئی۔

عالمی معیار کا برینٹ خام تیل گر کر تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی کم ہو کر 88 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ مئی کے مہینے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن کے اندر آنے والی یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے، جس نے ہندوستان جیسی تیل درآمد کرنے والی معیشت کے لیے ایک بڑے فائدے کا کام کیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی انتخابات کے نتائج کے باعث وہاں دس سالہ اور دو سالہ سرکاری بانڈز پر حاصل ہونے والی شرح منافع میں بھی تیزی سے گراوٹ آئی ہے۔ اس کمی کے بعد یہ شرحیں بالترتیب 4.86 فیصد اور 4.56 فیصد رہ گئی ہیں۔ بانڈز پر منافع کی شرح کم ہونے سے ہندوستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ عموماً بڑھ جاتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ آج ملکی شیئر بازار کو ملا۔

ان عالمی تبدیلیوں کے علاوہ ہندوستانی بازار کو ملکی سطح پر بھی دو بڑے عوامل کا سہارا ملا۔

ان میں سب سے اہم کردار غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل کی جانے والی بھاری خریداری کا رہا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گزشتہ مسلسل چار کاروباری دنوں کے دوران ہندوستانی شیئرس میں مجموعی طور پر 20,834 کروڑ روپے سے زیادہ کی خالص خریداری کی ہے۔ اس میں سب سے بڑی خریداری امریکی انتخابات کے نتائج والے دن درج کی گئی۔

سال 2026 کے دوران زیادہ تر شیئرس فروخت کرنے کا کردار ادا کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستانی بازار پر دوبارہ اعتماد بحال ہونے کی ایک بڑی وجہ بازار کے نگران ادارے سیبی کی وہ تجویز بھی ہے، جس کے تحت اس نے حکومت سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کو طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر عائد ٹیکس میں بڑی رعایت دینے کی سفارش کی ہے۔ شیئر بازار میں آج کی تیزی کی پانچویں اور آخری وجہ مختلف شعبوں میں گاڑیوں اور بینکاری کے شعبوں کی شاندار کارکردگی رہی۔

آج کے کاروبار میں نفٹی آٹو اشاریہ چار فیصد سے زیادہ کی زبردست تیزی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ سرکاری اور نجی دونوں بینکاری اشاریوں میں بھی تین تین فیصد سے زیادہ کا اچھال درج کیا گیا۔ ان دونوں شعبوں کی مضبوط کارکردگی نے آخرکار دونوں اہم شیئر اشاریوں کو دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہونے میں مدد دی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande