دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینج سے مثبت رجحانات، ایشیائی بازاروں میں ملا- جلا کاروبار
نئی دہلی، 5 نومبر (ہ س)۔دنیا کے اہم شیئر مارکٹ سے آج مثبت رجحانات نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں امریکی بازار زبردست تیزی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ ڈاو¿ جونز فیوچرز بھی آج صبح مضبوطی کے ساتھ سبز نشان میں کاروبار کرتا نظر آ رہا ہے۔ یورپی بازار
Global-Market-Trends


نئی دہلی، 5 نومبر (ہ س)۔دنیا کے اہم شیئر مارکٹ سے آج مثبت رجحانات نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں امریکی بازار زبردست تیزی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ ڈاو¿ جونز فیوچرز بھی آج صبح مضبوطی کے ساتھ سبز نشان میں کاروبار کرتا نظر آ رہا ہے۔ یورپی بازاروں میں بھی گزشتہ سیشن کے دوران مسلسل جوش و خروش برقرار رہا اور اہم انڈیکس میں زبردست تیزی درج کی گئی۔ دوسری جانب ایشیائی بازاروں میں آج ملا- جلا کاروبار ہو رہا ہے۔ تاہم ہندوستانی بازار کے لیے ابتدائی اشارے کافی مضبوط نظر آ رہے ہیں۔

گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران امریکی بازار میں وال اسٹریٹ پر شاندار بحالی دیکھنے کو ملی۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد سیاسی غیر یقینی صورت حال میں کمی آنے سے سرمایہ کاروں میں جوش و خروش برقرار رہا، جس کے نتیجے میں اہم انڈیکس میں مضبوطی آئی۔ تاہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سخت ضابطوں کے خدشات کے باعث ڈیٹا سینٹر کمپنیوں کے حصص میں کچھ گراوٹ بھی درج کی گئی۔

بدھ کے کاروباری سیشن میں ڈاو¿ جونز انڈسٹریل ایوریج 1,569.40 پوائنٹس یعنی 3 فیصد کی زبردست تیزی کے ساتھ 53,356.12 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ وہیں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 119.70 پوائنٹس یعنی 1.58 فیصد کے اضافے کے ساتھ 7,688.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے وابستہ نیسڈیک کمپوزٹ نے بھی 364.50 پوائنٹس یعنی 1.44 فیصد کی مضبوطی کے ساتھ 25,736.51 پوائنٹس پر گزشتہ سیشن کے کاروبار کا اختتام کیا۔ دوسری جانب ڈاو¿ جونز فیوچرز آج فی الحال 119.18 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد کے اضافے کے ساتھ 53,475.30 پوائنٹس کی سطح پر کاروبار کرتا نظر آ رہا ہے۔

امریکی بازاروں کی طرز پر یورپی بازاروں میں بھی گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران خریدار پوری طرح حاوی رہے۔ جرمنی کا ڈی اے ایکس انڈیکس 573.05 پوائنٹس یعنی 2.17 فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ 26,437.67 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ اسی طرح فرانس کا سی اے سی انڈیکس 157.58 پوائنٹس یعنی 1.93 فیصد کی شاندار تیزی کے ساتھ 8,177.89 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ وہیں برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای انڈیکس میں بھی 190.78 پوائنٹس یعنی 1.76 فیصد کی مضبوطی درج کی گئی اور یہ 10,829.21 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

گلوبل مارکیٹ سے ملنے والے ان اشاروں کے درمیان آج صبح ایشیائی بازاروں میں ملا جلا رجحان نظر آ رہا ہے۔ ایشیا کے نو اہم بازاروں میں سے پانچ کے اشاریے فروخت کے دباو¿ کے باعث سرخ نشان میں ہیں، جبکہ چار اشاریوں میں فی الحال تیزی برقرار ہے۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی بازار کے لیے ابتدائی اشارے دینے والے گفٹ نفٹی میں آج صبح زبردست اچھال دیکھا جا رہا ہے، جو گھریلو بازار کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ فی الحال یہ انڈیکس 418 پوائنٹس یعنی 1.75 فیصد کی زبردست مضبوطی کے ساتھ 24,368 پوائنٹس کی سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ ہانگ کانگ کے شیئر بازار میں بھی آج زبردست تیزی کا رجحان ہے۔ یہاں ہینگ سینگ انڈیکس فی الحال 736.50 پوائنٹس یعنی 3.08 فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ 24,656 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انڈونیشیا کے بازار میں بھی آج خریدار سرگرم نظر آ رہے ہیں، جس کے باعث جکارتہ کمپوزٹ انڈیکس 111.81 پوائنٹس یعنی 2.27 فیصد کی تیزی کے ساتھ 5,031.58 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔ وہیں چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس آج 3.62 پوائنٹس یعنی 0.10 فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ 3,689.79 پوائنٹس کی سطح پر ہے۔

دوسری جانب جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس آج کمزوری کے ساتھ سرخ نشان میں ہے۔ فی الحال یہ انڈیکس 793.63 پوائنٹس یعنی 1.28 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 61,395 پوائنٹس کی سطح پر ہے۔ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی آج مندی کا رجحان برقرار ہے، جہاں بڑے پیمانے پر فروخت کے دباو¿ کے باعث یہ انڈیکس 250.99 پوائنٹس یعنی 4.42 فیصد کی زبردست گراوٹ کے ساتھ 5,432.81 پوائنٹس پر آگیا ہے۔

اسی طرح تائیوان اسٹاک ایکسچینج میں بھی آج شدید کمزوری کا ماحول ہے۔ منافع وصولی کے باعث تائیوان ویٹڈ انڈیکس 874.44 پوائنٹس یعنی 2.04 فیصد پھسل کر 42,074.47 پوائنٹس پر آگیا ہے۔ تھائی لینڈ کے سیٹ کمپوزٹ انڈیکس میں بھی آج سستی نظر آ رہی ہے۔ فی الحال یہ انڈیکس 9.35 پوائنٹس یعنی 0.62 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 1,492.74 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ سنگاپور کا اسٹریٹس ٹائمز انڈیکس بھی آج معمولی دباو¿ میں ہے۔ یہ انڈیکس فی الحال 1.35 پوائنٹس یعنی 0.03 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 5,290.49 پوائنٹس کی سطح پر برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande