معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، 23 سالہ شاندار سفر ختم
نئی دہلی، 5 نومبر(ہ س)۔ پرتگال کے عظیم فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے جمعرات کو بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی پرتگال کی قومی ٹیم کے ساتھ ان کا 23 سالہ شاندار سفر ختم ہوگیا۔ اس دوران انہوں نے کئی تاریخی کامیابیاں حاص
معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، 23 سالہ شاندار سفر ختم


نئی دہلی، 5 نومبر(ہ س)۔

پرتگال کے عظیم فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے جمعرات کو بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی پرتگال کی قومی ٹیم کے ساتھ ان کا 23 سالہ شاندار سفر ختم ہوگیا۔ اس دوران انہوں نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کیں اور خود کو فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کیا۔

رونالڈو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے فیصلے کی اطلاع دی۔ اپنے جذباتی پیغام میں انہوں نے پرتگال کے لیے کھیلنے کے تجربات کو یاد کیا اور ملک کی نمائندگی کا موقع دینے کے لیے شائقین کا شکریہ ادا کیا۔

رونالڈو نے کہا کہ اب قومی ٹیم کی مشہور نمبر 7 جرسی نئی نسل کو سونپنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کریئر کو ایسا سفر قرار دیا جس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے کہا، ’’پرتگال کے لوگوں، وہ وقت آگیا ہے جب میں قومی ٹیم کی نمبر 7 جرسی واپس سونپ دوں۔ مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ یہ جرسی صرف میری ہے، لیکن 23 سال تک اسے پہننے، اس کا وقار برقرار رکھنے اور دنیا بھر کے اسٹیڈیموں میں اسے اپنے ساتھ لے جانے کا مجھے اعزاز اور ذمہ داری حاصل رہی۔ اب اسے مستقبل کی نسل کے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ بعض فیصلے صرف دماغ سے نہیں بلکہ دل سے بھی کیے جاتے ہیں۔ اگست 2003 میں شروع ہونے والا یہ سفر، جس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی، اب اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

41 سالہ کھلاڑی نے کہا، ’’جب میں قومی ٹیم کے ساتھ گزارے گئے وقت کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صرف میچ، گول، ریکارڈ یا ٹرافیاں ہی نظر نہیں آتیں۔ مجھے لوگ یاد آتے ہیں۔ بیرون ملک رہنے والے پرتگالی لوگ یاد آتے ہیں۔ مجھے لاکھوں پرتگالی شہری نظر آتے ہیں، جن سے میں کبھی نہیں ملا، لیکن وہ میری زندگی کا حصہ بن گئے۔ کیونکہ آخر میں فٹبال ایک کھیل سے کہیں زیادہ ہے۔ فٹبال لوگوں کے بارے میں ہے۔‘‘

رونالڈو نے کہا کہ قومی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ’’میں جیتنا چاہتا تھا۔ میں مزید بہتر بننا چاہتا تھا۔ میں تاریخ رقم کرنا چاہتا تھا۔ میں نے ہمیشہ خود سے سب سے زیادہ توقعات رکھی۔ مجھے ہمیشہ اور زیادہ حاصل کرنے کی خواہش رہی۔ مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ ہم مزید آگے جاسکتے ہیں۔ اور اس جرسی کے لیے میں نے اپنا سب کچھ جھونک دیا۔‘‘

پرتگال کے عظیم کھلاڑی نے اپنے بین الاقوامی کریئر کی یادگار کامیابیوں اور مشکل شکستوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے کریئر میں کئی شاندار دن اور راتیں آئیں۔ ایسی کامیابیاں ملیں جنہیں میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کچھ شکستیں ایسی بھی رہیں جنہیں یاد کرنے پر آج بھی تکلیف ہوتی ہے۔ مجھ سے غلطیاں ہوئیں، میں نے تکلیفیں برداشت کیں اور کئی بار میں پرتگال کے لوگوں کو وہ خوشی نہیں دے سکا جس کی انہیں امید تھی۔ لیکن میں نے کبھی ہار نہیں مانی اور سب سے بڑھ کر پرتگال کی نمائندگی کرنے پر فخر کرنا کبھی نہیں چھوڑا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ان برسوں کے دوران انہوں نے کچھ سادہ باتیں سیکھیں۔ ’’اہداف کی اہمیت کم ہوجاتی ہے، ٹرافیاں عجائب گھروں میں پہنچ جاتی ہیں اور ریکارڈ کبھی نہ کبھی ٹوٹ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ایک چیز ایسی ہے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکتا، اور وہ لوگوں کے دلوں میں ہماری جگہ ہے۔ اگر میں نے کبھی آپ کو خوش کیا ہے، اگر میرے کسی گول کی وجہ سے آپ نے کسی کو گلے لگایا ہے، اپنی کوئی پریشانی بھلائی ہے یا اپنے ملک پر فخر محسوس کیا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ میری تمام محنت کامیاب ہوگئی۔‘‘

رونالڈو نے اپنے الوداعی پیغام میں پرتگال کے نوجوان فٹبالروں سے بڑے خواب دیکھنے، کبھی ہمت نہ ہارنے اور ملک کے لیے نئی کامیابیاں حاصل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کپتان کے طور پر ان کا سفر ٹیم کی اجتماعی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، ’’پرتگال کو ہمیشہ ایسے نوجوانوں کی ضرورت رہے گی جو خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ ایسے کھلاڑی جو کبھی ہار نہ مانیں۔ نئی نسل کے کھلاڑیوں کو یقین ہونا چاہیے کہ وہ وہاں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں اب تک کوئی نہیں پہنچا۔‘‘

اپنے ساتھی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں اپنے تمام ساتھیوں سے ایک خاص بات کہنا چاہتا ہوں۔ ہر دوڑ، ہر گلے ملنے، ہر بحث اور میدان میں اترنے سے پہلے کے ہر خاموش لمحے کے لیے شکریہ۔ ہم نے جو کامیابیاں ساتھ مل کر منائیں اور جن شکستوں نے ہمیں مضبوط بنایا، ان سب کے لیے شکریہ۔ مجھے آپ کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، لیکن کوئی بھی کپتان تنہا سفر طے نہیں کرتا۔ آپ ہمیشہ میری کہانی کا حصہ رہیں گے۔‘‘

رونالڈو نے اپنے 23 سالہ سفر میں ساتھ دینے والے کوچز، عہدیداروں، ڈاکٹروں، فزیوتھراپسٹوں، کٹ مینیجرز اور دیگر معاون عملے کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خاندان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کے تئیں ان کی وابستگی کی وجہ سے خاندان کو کئی بار ان کے وقت اور ساتھ کی قربانی دینی پڑی۔

اپنے الوداعی پیغام کے اختتام پر رونالڈو نے کہا، ’’قومی ٹیم کے ساتھ میدان میں میرا سفر ختم ہورہا ہے۔ میں فخر کے ساتھ رخصت لے رہا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے پرتگال کے لیے اپنا سب کچھ دیا۔ لیکن میں کبھی آپ سے الگ نہیں ہوں گا۔ پرتگال کی ہر کامیابی پر میں پہلے کی طرح خوشیاں مناتا رہوں گا۔‘‘

رونالڈو نے کہا، ’’میں نے اپنی پوری زندگی دنیا کا بہترین کھلاڑی بننے کے لیے محنت کی۔ آج مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری سب سے بڑی کامیابی دنیا کے بہترین ملک کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کرنا تھا۔ ان 23 برسوں کے لیے شکریہ۔ مجھ پر یقین کرنے اور میرے اس خواب کو جینے کا موقع دینے کے لیے شکریہ۔ نمبر 7 کی جرسی پہننے کا فخر ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔‘‘

رونالڈو پرتگال کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ وہ مردوں کے بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول اور سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لیے 234 مقابلوں میں 146 گول کیے ہیں۔ اپنے شاندار کریئر میں رونالڈو نے کئی اہم انفرادی ایوارڈز بھی حاصل کیے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande