انڈس ٹاورز نے 50 ہزار سولر سے چلنے والی ٹیلی کام سائٹس کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی
تمام سولر سائٹس ڈیجیٹلی طور پر منسلک ہوں گی، جس سے بجلی کی پیداوار اور کارکردگی کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔ ٹیلی کام ٹاور کے بنیادی ڈھانچے کی کمپنی انڈس ٹاورز لمیٹڈ نے پورے ہندوستان میں 50 ہزار شمسی توانائی سے چلنے والی
انڈس ٹاور


- تمام سولر سائٹس ڈیجیٹلی طور پر منسلک ہوں گی، جس سے بجلی کی پیداوار اور کارکردگی کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن

نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔

ٹیلی کام ٹاور کے بنیادی ڈھانچے کی کمپنی انڈس ٹاورز لمیٹڈ نے پورے ہندوستان میں 50 ہزار شمسی توانائی سے چلنے والی ٹیلی کام سائٹس قائم کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ پیسو ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے شعبے میں اتنی بڑی تعداد میں شمسی توانائی کا نظام نافذ کرنے والی یہ دنیا کی پہلی کمپنی بن گئی ہے۔

کمپنی نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انڈس ٹاورز لمیٹڈ نے ہندوستان میں 50 ہزار سولر سے چلنے والی ٹیلی کام سائٹس کو کامیابی کے ساتھ قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انڈس ٹاورز وسیع پیمانے پر پائیدار بنیادی ڈھانچے میں عالمی معیار قائم کرنے والی پہلی پیسو ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کمپنی بن گئی ہے۔ مستقبل کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کمپنی کا ہدف ایک لاکھ ٹیلی کام سائٹس کو بھی شمسی توانائی سے چلنے کے قابل بنانا ہے، جس سے پائیدار ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے شعبے میں کمپنی کی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔

ٹیلی کام ٹاور انفرااسٹرکچر کمپنی نے بتایا کہ تقریباً 300 میگاواٹ کی کل تنصیب شدہ سولر صلاحیت کے حامل اس اقدام کی مدد سے ہی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایک بڑے منتشر قابلِ تجدید توانائی کے ایکو سسٹم نے جنم لیا ہے۔ انڈس ٹاورز کے تخمینے کے مطابق اس کا ماحولیاتی اثر تقریباً 2 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے، جبکہ روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کر کے یہ منصوبہ سالانہ تقریباً 4,20,000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس عالمی ریکارڈ پر گفتگو کرتے ہوئے انڈس ٹاورز لمیٹڈ کے ایم ڈی اور سی ای او پرچور ساہ نے کہا کہ 50 ہزار سولر سے چلنے والی ٹیلی کام سائٹس کے ساتھ تقریباً 300 میگاواٹ کی سولر صلاحیت کا ہندسہ حاصل کرنا محض ایک کاروباری کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ پائیدار ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے ارتقا میں ایک تاریخی موڑ ہے۔ پرچور ساہ نے کہا کہ ہم نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اختراع، ٹیکنالوجی اور پائیداری کو ساتھ لے کر چلنا صنعت اور ماحول دونوں کے لیے کتنا بڑا اور مثبت انقلاب لا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف صاف ستھری توانائی فراہم کرنے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے، بلکہ ہمارے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے میں بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ یہ کامیابی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اب ہماری پوری توجہ 1,00,000 ٹیلی کام سائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے اپنے بڑے ہدف پر مرکوز ہے، تاکہ توانائی کے اخراجات کو معقول بنانے کے ساتھ ساتھ پائیدار ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے معیارات کو ازسرِنو متعین کیا جا سکے۔

ساہ نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سفر کے دوران ہم نے جو مہارت، آپریشنل ماڈل اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارم تیار کیے ہیں، ان کی مدد سے ہم افریقہ میں بھی اسی طرح کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، جہاں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو بڑھانے کے لیے قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کے حل کی شدید ضرورت ہے۔ ہم نے بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کے متبادل قائم کرنے اور ان کے انتظام و انصرام کی اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پائیدار ٹیلی کام ایکو سسٹم کی تعمیر اور صنعت میں نئے معیارات قائم کرنے میں ہمیں یقیناً فائدہ حاصل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی فیوچر-ریڈی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں انڈس ٹاورز کے قائدانہ کردار کو نمایاں کرتی ہے، جو پائیداری اور آپریشنل صلاحیت کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ اپنے نیٹ ورک میں جدید ترین قابلِ تجدید توانائی کے وسائل، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیٹا پر مبنی دیکھ بھال (مینٹیننس) کی صلاحیتوں کو یکجا کر کے کمپنی ڈیزل پر اپنا انحصار کم کر رہی ہے، توانائی کے تحفظ کو فروغ دے رہی ہے اور ماحول دوست (گرین) کنیکٹیوٹی کی سمت میں تبدیلی کی رفتار تیز کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande