
نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔ جیمز اینڈ جیولری شعبے کی کمپنی ایم کے سنز فائن جیولز لمیٹڈ کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں معمولی اضافے کے ساتھ شروعات کی۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 162 روپے فی شیئر کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای پر ان کی لسٹنگ 5.93 فیصد پریمیم کے ساتھ 171.60 روپے پر، جبکہ این ایس ای پر 5.56 فیصد پریمیم کے ساتھ 171 روپے پر ہوئی۔
لسٹنگ کے بعد خریداری کے رجحان کے باعث یہ شیئر کچھ ہی دیر میں بڑھ کر 175 روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم، منافع وصولی شروع ہونے کے بعد اس کی قیمت گر کر 163.11 روپے تک آ گئی۔ بازار میں مسلسل خرید و فروخت کے درمیان صبح 11 بجے تک یہ شیئر 164.54 روپے کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔ اس طرح اب تک کے کاروبار میں کمپنی کے آئی پی او میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو فی شیئر 2.54 روپے، یعنی 1.57 فیصد کا معمولی فائدہ ہو سکا ہے۔
کمپنی کا 275.40 کروڑ روپے کا آئی پی او 28 سے 30 اکتوبر تک سبسکرپشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اوسط ردعمل ملا تھا، جس کے باعث یہ مجموعی طور پر 3.91 گنا سبسکرائب ہوا۔ اس میں کواہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 1.81 گنا (اینکر سرمایہ کاروں کے علاوہ) سبسکرائب ہوا۔ اسی طرح غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصے کو 13.84 گنا سبسکرپشن ملا، جبکہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 2.99 گنا سبسکرائب ہوا۔
اس ایشو کے تحت تقریباً 220.32 کروڑ روپے مالیت کے 1.36 کروڑ نئے شیئر جاری کیے گئے ہیں، جبکہ پروموٹر کی جانب سے 55.08 کروڑ روپے مالیت کے 34 لاکھ شیئر آفر فار سیل (او ایف ایس) کے ذریعے فروخت کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں او ایف ایس کے ذریعے حاصل ہونے والی پوری رقم پروموٹر رام چندر مرلی دھر رائملانی کو ملے گی۔ نئے شیئر جاری کر کے حاصل ہونے والی رقم میں سے 152.84 کروڑ روپے کمپنی مہاراشٹر میں نیا شوروم قائم کرنے اور گجرات میں موجودہ شوروم کی توسیع سے متعلق اخراجات پورے کرنے پر خرچ کرے گی۔ اس کے علاوہ 30 کروڑ روپے کمپنی کے بعض بقایا قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ باقی رقم عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے خرچ کی جائے گی۔
ایم کے سنز فائن جیولز لمیٹڈ کی مالیاتی صورت حال کے حوالے سے سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس میں دی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ مالی برسوں کے دوران کمپنی کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 8.17 کروڑ روپے کا خالص منافع (پرافٹ آفٹر ٹیکس) ہوا تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 23.26 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس کے بعد مالی سال26-2025 میں اس میں 123 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 51.80 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی، یعنی 30 جون 2026 تک کمپنی 15.02 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کر چکی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد