ریزر-پے شیئر بازار میں قدم رکھے گی، آئی پی او کے لیے سیبی سے منظوری مل گئی
نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔ ملک کا معروف فن ٹیک اسٹارٹ اپ ریزر -پے جلد ہی پرائمری شیئر بازار میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔ کمپنی کو اپنا پہلا پبلک ایشو (آئی پی او) پیش کرنے کے لیے مارکیٹ ریگولیٹر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) سے منظوری مل گئ
IPO-Approval-Razor-Pay


نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔ ملک کا معروف فن ٹیک اسٹارٹ اپ ریزر -پے جلد ہی پرائمری شیئر بازار میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔ کمپنی کو اپنا پہلا پبلک ایشو (آئی پی او) پیش کرنے کے لیے مارکیٹ ریگولیٹر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) سے منظوری مل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی اس پبلک ایشو کے ذریعے 5,500 کروڑ روپے سے لے کر 6,500 کروڑ روپے تک کی رقم جمع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ریزر -پے نے اپنے پبلک ایشو کے لیے جون 2026 میں کانفیڈنشیل پری فائلنگ روٹ کے تحت سیبی کے پاس دستاویزات جمع کرائی تھیں۔ اس طریقہ کار کے تحت کمپنیاں اپنی انتہائی حساس مالیاتی معلومات کو عوامی کیے بغیر ہی آئی پی او کے ابتدائی مراحل کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

اس آئی پی او کے ذریعے کمپنی کا ہدف تقریباً 500 کروڑ ڈالر، یعنی49,000 سے 50,000 کروڑ روپے کی مالیت حاصل کرنا ہے۔ تاہم، یہ رقم کمپنی کی سابقہ مالیاتی قدر کے مقابلے میں کچھ کم دکھائی دیتی ہے۔ اس سے قبل 2021 میں فنڈنگ کے ایک مرحلے کے دوران ریزر -پے کی مالیت تقریباً 750 کروڑ ڈالر لگائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ آئی آئی ٹی روڑکی سے تعلیم حاصل کرنے والے ہرشل ماتھر اور ششانک کمار نے 2014 میں اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ کمپنی تاجروں کو ڈیجیٹل بینکنگ، پیمنٹ گیٹ وے اور ادائیگیوں کی پروسیسنگ جیسی اہم خدمات فراہم کرتی ہے۔

ریزر- پے میں ٹائیگر گلوبل، پیک ایکس وی پارٹنرس اور جی آئی سی جیسے بڑے عالمی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بازار میں اس کمپنی کا مقابلہ پے ٹی ایم، پے یو، پائن لیبس، کیش فری پیمنٹس اور فون- پے جیسی بڑی کمپنیوں سے ہے۔ ان حریف کمپنیوں میں پائن لیبس اور پے ٹی ایم پہلے ہی گھریلو شیئر بازار میں لسٹڈ ہیں، جبکہ فون پے کے بھی 27-2026 کے اختتام تک لسٹ ہونے کی امید ہے۔

کمپنی کی حالیہ مالیاتی صورت حال پر نظر ڈالیں تو مالی سال 25-2024 کے دوران اس کی مجموعی آمدنی سالانہ بنیاد پر 65 فیصد اضافے کے ساتھ 3,783 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ اس مدت میں کمپنی کا مجموعی منافع بھی بڑھ کر 1,277 کروڑ روپے ہو گیا۔ تاہم، اسی مالی سال میں کمپنی کو 1,209 کروڑ روپے کا خالص خسارہ بھی اٹھانا پڑا۔

اس خسارے کی اہم وجہ ملازمین کے ایمپلائی اسٹاک اونرشپ پلان (ای ایس او پی) سے متعلق یک مشت اخراجات اور کمپنی کا مرکزی کاروباری ڈھانچہ امریکہ سے دوبارہ ہندوستان منتقل کرنے (ریورس فلپ) کے عمل کے دوران عائد ہونے والی بھاری ٹیکس ذمہ داری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ریزر-پے نے مئی 2023 میں اپنی امریکی اصل کمپنی کو ہندوستان کی یونٹ میں ضم کر کے اپنا پورا کاروباری ڈھانچہ باضابطہ طور پر ہندوستان منتقل کر لیا تھا۔ اس کے بعد اب کمپنی ہندوستانی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہونے کے لیے تیار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande