ڈیری کا شعبہ کبھی بھی غیر ملکی کمپنیوں کے لئے نہیں کھولا جائےگا : پیوش گوئل
نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کے روز واضح کیا ہے کہ ہندوستان نے کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں اپنے ڈیری کے شعبے کو غیر ملکی کمپنیوں یا دیگر ممالک کے لیے نہیں کھولا ہے اور نہ ہی مستقبل میں جینیاتی ط
دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج میں طلبہ سے خطاب کرتے پیوش گوئل


دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج میں طلبہ سے خطاب کرتے پیوش گوئل


نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کے روز واضح کیا ہے کہ ہندوستان نے کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں اپنے ڈیری کے شعبے کو غیر ملکی کمپنیوں یا دیگر ممالک کے لیے نہیں کھولا ہے اور نہ ہی مستقبل میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مصنوعات کی درآمد کی اجازت دے گا۔

گوئل نے قومی راجدھانی نئی دہلی میں کروڑی مل کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان نے کسی بھی حساس شے پر ’’کبھی بھی‘‘ سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور تجارتی معاہدوں میں ہمیشہ اپنے کسانوں، ماہی گیروں اور مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔

انہوں نے تجارتی معاہدوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ہم بعض زرعی مصنوعات اور کچھ ایسی اشیاء کے معاملے میں منڈی کھولنے کو لے کر انتہائی حساس ہیں جن میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے، جیسے کہ سمندری مصنوعات۔ ہم اپنا ڈیری کا شعبہ کھولنے کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ درحقیقت، آج تک ہم نے کسی کے لیے بھی ڈیری کا شعبہ نہیں کھولا ہے۔‘‘

وزیر تجارت نے کہا، ’’ہم ہندوستان میں کسی بھی جی ایم مصنوعات کو آنے دینے کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ ہم نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہم اپنے مذہبی جذبات اور احساسات کو لے کر بھی چوکنا ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اکثر بیرونِ ممالک میں ڈیری مصنوعات تیار کرنے کے دوران بچھڑے کے گوشت یا ’رینٹ‘ (پنیر کا مایہ) کا استعمال کیا جاتا ہے… ہم ہندوستان میں اس کی قطعی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے لیے سخت تصدیق اور سرٹیفکیشن ضروری ہے، تاکہ ہندوستان کے ایک بڑے طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔‘‘

وزیر موصوف نے کہا، ’’ہماری کوشش روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ان مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں کھولنے کی ہے، جن میں ہم مسابقتی حیثیت رکھتے ہیں اور جن سے ہندوستان کی ایک بڑی آبادی، ہمارے ایم ایس ایم ایز، زرعی شعبے کے کسانوں اور سبھی کو بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل ہو سکے۔‘‘

ملک کی برآمدات کے بارے میں طلبہ کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہدف مالی سال 27-2026 میں ایک لاکھ کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی اشیاء اور خدمات برآمد کرنا ہے۔ اپریل تا ستمبر 2026 کے دوران ہندوستان کی برآمدات تقریباً 480 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو کہ سالانہ بنیاد پر تقریباً 14 فیصد زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بقیہ چھ ماہ میں ’’ہمیں 520 ارب امریکی ڈالر‘‘ کی برآمدات کرنی ہوں گی اور اکتوبر میں ’’ہماری برآمدات کے اعداد و شمار انتہائی حوصلہ افزا‘‘ رہے ہیں۔ اکتوبر کے تجارتی اعداد و شمار باضابطہ طور پر نومبر کے وسط میں جاری کیے جائیں گے۔

چین کی جانب سے ’ٹنل بورنگ‘ مشینوں کی برآمد پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ان مشینوں کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ہندوستان خود ان مشینوں کو تیار کرنے کی سمت میں پیش رفت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نایاب معدنی عناصر تک رسائی روکے جانے کے وقت بھی ملک نے کسی کے آگے مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔

گوئل نے کہا کہ ہندوستان ملک میں طیاروں کی دستیابی بڑھانے کے لیے طیارہ ساز کمپنیوں ایمبریئر، ایئربس اور بوئنگ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

مرکزی وزیر نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کی ترقی کے سفر میں خواہ کوئی بھی دیوار حائل ہو، ہم ہر زنجیر کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں…۔ آج امیتابھ بچن کے کالج میں بچوں سے ملاقات کر کے ہندوستان کے ترقیاتی سفر پر تفصیلی گفتگو کی۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande