
نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ سونے کی چاہت کے معاملے میں ہندوستان ہمیشہ دنیا کے سرکردہ ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے۔ خاص طور پر سونے کے زیورات کی خریداری کے معاملے میں ہندوستان کا شمار ہمیشہ دنیا کے تین بڑے ممالک میں ہوتا رہا ہے، لیکن اب سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بھاری ٹیکس کے باعث ہندوستانی صارفین نے سونے کی خریداری سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ رواں سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں ملک میں سونے کی مانگ میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے درمیان ملک میں سونے کی مجموعی مانگ سالانہ بنیاد پر تقریباً 29 فیصد کم ہو کر 162.5 ٹن رہ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 229.8 ٹن تھی۔ تاہم، بازار میں سونے کی قیمتیں آسمان چھونے کے باوجود وزن کے لحاظ سے مانگ میں کمی آئی ہے، لیکن مالیت کے اعتبار سے سونے کی خریداری میں تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 2.41 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
سونے کی خریداری میں اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں اس قیمتی دھات کی بے تحاشہ قیمتیں، بھاری درآمدی ڈیوٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے انتہائی ضروری ہونے پر ہی سونا خریدنے کی اپیل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
روایتی طور پر بازار میں سب سے مضبوط سمجھی جانے والی زیورات کی مانگ جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں وزن کے اعتبار سے 20 فیصد کم ہو کر 99.9 ٹن رہ گئی، جو گزشتہ سال 125 ٹن تھی۔
ورلڈ گولڈ کونسل انڈیا کے مطابق زیورات کی قیمتیں بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے صارفین اب بھاری زیورات کے بجائے ہلکے وزن کے زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں یا پھر پرانے زیورات تبدیل کرکے نئے زیورات خرید رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری کے مقصد سے خریدے جانے والے سونے کے سکوں اور بسکٹوں کی مانگ میں بھی 40 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
گزشتہ سال اسی مدت میں 91.6 ٹن سونے کے سکے اور بسکٹ فروخت ہوئے تھے، جبکہ رواں سال جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں یہ فروخت گھٹ کر محض 55 ٹن رہ گئی۔ اس سست روی کا اثر ہندوستان کی خالص سونے کی درآمدات پر بھی پڑا ہے، جو تقریباً 46 فیصد کم ہو کر 114.1 ٹن رہ گئی ہیں۔ اس دوران ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی سونے کی کوئی نئی خریداری نہیں کی۔
سونے کے کاروبار میں اس سست رفتار کو دیکھتے ہوئے ورلڈ گولڈ کونسل نے اندازہ لگایا ہے کہ پورے سال 2026 میں ہندوستان کی مجموعی سونے کی مانگ گزشتہ چھ برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے اور 625 سے 675 ٹن کے درمیان محدود رہ سکتی ہے۔
ملک میں سونے کی نصف سے زیادہ مانگ دیہی علاقوں سے آتی ہے، جہاں فی الحال آمدنی پر دباؤ ہونے کی وجہ سے بازار میں فوری بہتری کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔
تاہم، ماہرین کو امید ہے کہ آنے والے وقت میں شادیوں کے سیزن اور دیوالی و دھن تیرس جیسے بڑے تہواروں کے باعث سال کے آخری مہینوں میں زیورات کی مانگ میں دوبارہ کچھ بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
دوسری جانب، عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث دنیا بھر میں سونے کی مانگ مضبوط بنی ہوئی ہے۔ پولینڈ اور چین جیسے ممالک اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی